*💠مروان بن حکم کیا صحابی تھے:*
السلام عليكم و رحمتہ اللہ
1۔مروان بن حکم کیا صحابی تھے؟
2۔کچھ حضرات ان کو برا بھلا کہتے ہیں کیا وجہ ہے؟
(جیسا کہ مفتی حنیف قریشی صاحب کا میں نے ایک بیان سنا جس میں انہوں نے مروان بن الحکم کی بدترین گستاخی کی ہے اور کہا ہے کہ ہم مروان بن حکم کی روایات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔)
3۔کیا مروان نام رکھنا درست ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ
الحمد للہ وحده والصلاة والسلام علي من لانبي بعده
الجواب باسم ملھم الصواب حامدا و مصلیا
*⤵️مختصر جواب:*
⬅️1مروان بن حکم چوتھے اموی خلیفہ ،سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی تھے ۔سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مدینہ منورہ کے گورنر رہے ہیں۔انکے صحابی ھونے کے اندر اختلاف ہے ۔راجح قول کے مطابق یہ صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں۔چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی رح نے لکھا ھے کہ کسی نے انکو وثوق کے ساتھ صحابی نہین کہا۔(الاصابہ،جلد 3 ص 477)
⬅️2۔مروان بن حکم۔کے بارے میں کئی احادیث ایسی ہیں جن میں اللہ کے نبی ﷺ نے ان کے والد اور انکو برا بھلا کہا ہے۔ان میں سے کئی شیعہ راویوں کی گھڑی ہوئی ہیں۔ جبکہ بعض حسن لغیرہ درجہ کی ہیں مگر ان میں بعض علل پائی جاتی ہیں۔ان روایات کے بارے میں علامہ ذھبیؒ نے سیر اعلام النبلاء میں لکھا ھے
و یروی فی سبه احادیث لم تصح
اور مروان بن حکم کے برا بھلا کہنے میں احادیث روایت کی گئی ہیں جو درست نہیں ہیں
(سیر اعلام النبلاء جلد 2 ص108)
اور تاریخ اسلام میں علامہ ذھبیؒ نے لکھا ہے ۔
و قدد وردت احادیث منکرة فی لعنه لا یجوز الاحتجاج بھا ۔
مروان بن حکم پر لعنت کے بارے میں ایسی احادیث آئی ہیں جو منکر کے درجے میں ہیں ان سے استدلال درست نہیں۔
(تاریخ الاسلام جلد2 ص 96 )
نیز کسی متعین شخص پر لعنت اس صورت مین جائز ہے جبکہ اس کا کفر پر مرنا یقینی ہو۔اس لئے مروان بن حکم پر لعن جائز نہیں ۔نیز انکو برا بھلا کہنے سے بھی گریز کیا جائے کیونکہ محدثین اور فقہاء سے ایسا منقول نہیں۔
اس کے علاوہ کئی مطاعن ہیں جو قوی نہیں۔البتہ یہ بات ضرور ہے کہ مروان بن حکم نے اہل بیت اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قاتل بد بخت ابن زیاد کو دوست رکھا اوربد بخت ابن زیاد ہی کے مشورہ پر عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی اتفاقی خلافت سے بغاوت کی۔ جہاں تک تعلق مروان بن حکم کی حدیث میں عدالت کا ہے تو بحیثیت راوی حدیث ،وہ معتبر ہیں۔ وہ بخاری شریف کے راویوں میں سے ہے۔نیز انکی مروی احادیث سوائے صحیح مسلم کے ،صحاح ستہ کی دیگر تمام کتب میں ہیں۔ چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے عروہ بن زبیرؒ کے حوالے سے لکھا ھے کہ مروان ، حدیث کے معاملے میں متھم نہیں۔
وقال ابن حجر العسقلاني، فی فتح الباري ٤٤٣/١
مَرْوَان بن الحكم بن أبي الْعَاصِ بن أُميَّة بن عَم عُثْمَان بن عَفَّان يُقَال لَهُ رُؤْيَة فَإِن ثبتَتْ فَلَا يعرج على من تكلم فِيهِ وَقَالَ عُرْوَة بن الزبير كَانَ مَرْوَان لَا يتهم فِي الحَدِيث وَقد روى عَنهُ سهل بن سعد السَّاعِدِيّ الصَّحَابِيّ اعْتِمَادًا على صدقه وَإِنَّمَا نقموا عَلَيْهِ أَنه رمى طَلْحَة يَوْم الْجمل بِسَهْم فَقتله ثمَّ شهر السَّيْف فِي طلب الْخلَافَة حَتَّى جرى مَا جرى فَأَما قتل طَلْحَة فَكَانَ متأولا فِيهِ كَمَا قَرَّرَهُ الْإِسْمَاعِيلِيّ وَغَيره وَأما مَا بعد ذَلِك فَإِنَّمَا حمل عَنهُ سهل بن سعد وَعُرْوَة وَعلي بن الْحُسَيْن وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ وَهَؤُلَاء أخرج البُخَارِيّ أَحَادِيثهم عَنهُ فِي صَحِيحه لما كَانَ أَمِيرا عِنْدهم بِالْمَدِينَةِ قبل أَن يَبْدُو مِنْهُ فِي الْخلاف على بن الزبير مَا بدا وَالله أعلم وقداعتمد مَالك على حَدِيثه ورأيه
قاضی ابوبکر بن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
"مروان صحابہ تابعین اور فقہاء المسلمین کے نزدیک عادل اور امت کے عظیم اشخاص میں ہیں، ان سے صحابہ میں حضرت سہل بن سعد نے روایتیں لی ہیں، تابعین میں حضرت علی زین العابدین سعید بن المسیب، عروہ بن الزبیر، ابوبکر بن عبدالرحمن الحارث، عبید اللہ بن عبد اللہ جیسے جلیل القدر علماء اور محدثین نے احادیث روایت کی ہیں، فقہاء میں سبھی نے ان کی عظمت اور خلافت کو تسلیم کیا ہے، ان کے فتاوے کو قابل التفات سمجھا اور ان کی احادیث پر اعتماد کیا ہے، رہے بیوقوف قسم کے ادباء اور مؤرخین ان کا تذکرہ اپنی اپنی حیثیت سے کرتے ہیں۔ (العواصم من القواصم)
*⤵️تفصیلی جواب:*
مروان بن الحکم چوتھے اموی خلیفہ ھیں۔فتح مکہ کے موقع پر انکی عمر 6 سال تھی اور آقا ﷺ کے وصال کے وقت 8 سال۔یہ اپنے والد کے ساتھ طائف چلے گئے تھے اور مدینہ منورہ نہیں رھے ۔اس لئے انکے صحابی ہونے میں اختلاف ہے راجح قول یہی ہے کہ صحابی نہیں ہیں۔کئی کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے احادیث روایت کی ھیں مگر اللہ کے نبی ﷺ سے براہ راست کوئی حدیث نہیں روایت کی جس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ صحابی نہیں۔ان کے والد حکم بن عاص حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے چچا تھے ۔اس لحاظ سے یہ چچا زاد بھائی بنے۔سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں انکے کاتب تھے۔ جنگ جمل میں یہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے ساتھ تھے۔ جنگ صفین میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ھوئے۔بظاہر یہ تین بڑی وجوہات تھیں جن کی بنا پر کئ شیعہ راویوں نے انکی طرف کئی روایات گھڑ لی جس میں ان پر لعنت کا ذکر تھا ۔جن کا رد علامہ ذھبیؒ،حافظ ابن حجرؒ ،اور علامہ ابن تیمیہؒ نے کیا ہے ۔ اور بعض نے تاویل کی۔ان سے کئی کبار تابعین نے احادیث لی ہیں۔
صحاح ستہ میں سوائے صحیح مسلم کے ،سب میں انکی روایت موجود ہیں ۔امام بخاری رح کا ان سے حدیث لینا ،حدیث کے باب میں انکے ثقہ ہونے کی دلیل ہے ۔البتہ بحیثیت انسان ہونے کے ان سے کچھ امور ایسے بھی ہوئے،جو نہیں ہونے چاہیئے تھے۔حضرت عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے یزید کی خلافت تسلیم نہ کی تھی نہ اسکی بیعت کی۔یزید کے مرنے کے بعد ،حضرت عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیعت خلافت لینا شروع کی۔
یزید کے بیٹے معاویہ بن یزید کے انتقال کے بعد عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت پر اھل حجاز متفق ہو گئے تھے اور چھ سے سات ماہ ایسے گزرے جس میں صرف حضرت عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما تن تنہا خلیفہ تھے۔
مروان بن حکم اس صورت حال میں اس ارادے سے نکلے کہ انکے ھاتھ پر بیعت خلافت کریں۔راستے میں بد بخت ابن زیاد (قاتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ )کے کہنے پر شام میں اپنی بیعت خلافت لینا شروع کر دی۔شام اور مصر میں لوگ مروان کی خلافت پر متفق ہو گئے اور نو ماہ مروان کی خلافت رہی۔البتہ انہوں نے عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے کچھ چھیڑ چھاڑ نہ کی۔ مگر اس صورت حال میں جبکہ سیدنا عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت پر سب متفق ہو کر سات ماہ تک وہ بلا شرکت غیرے خلیفہ رہے،مروان بن حکم کی حیثیت بظاہر باغی کی سی تھی ۔البتہ مروان مسلمان بادشاہ تھے۔اور راوی حدیث ہیں اور حدیث کے باب میں معتبر ہے اور اس حیثیٹ سے ان کے لئے اچھے الفاظ استعمال کرنے چاہئیں۔
*🩸مروان بن حکم پر کئے گئے مطاعن:*
⬅️انکے والد کو نبی ﷺ نے مدینہ منورہ سے جلا وطن کیا تھا۔
*جواب:* اس حوالے سے کوئی بھی مستند روایت ایسی نہیں جو ہیں وہ سب بلا سند کے ہیں۔حقیقت یہ ہےمروان کے والد ،حکم بن عاص،خود طائف گئے تھے ۔یہی وجہ ھے کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں اپنے چچا کو مدینہ منورہ بلوا لیا تھا۔اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہر گز نہ بلاتے کہ وہ سچے جان نثار اور عاشق رسول ﷺ، تھے۔چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے اس جلا وطنی کی تردید کی نیز علامہ ابن تیمیہؒ نے بھی نفی کی ھے۔
*⬅️اہل بیت سے عداوت تھی:*
*جواب:* یہ محض اھل تشیع کا بھتان ہے جو انہوں نے اس لئے لگایا کہ یہ جنگ جمل میں امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اور جنگ صفین میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔
اس الزام کی تردید کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ مروان بن حکم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ھے اور امام زین العابدین رح نے مروان سے روایت کی ہے۔ چنانچہ علامہ ذہبیؒ نے سیر اعلام النبلاء میں لکھا ہے ۔
و قال الذهبي في سير أعلام النبلاء جلد 4 ص389
روى شعيب عن الزهري قال: «كان علي بن الحسين من أفضل أهل بيته، وأحسنهم طاعة، وأحبهم إلى مروان وإلى عبد الملك».
⬅️یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ مروان نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا کیونکہ وہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والوں میں شامل تھے۔
*جواب:* یہ الزام اس وقت ان سبائی بلوائیوں نے لگایا جن کا مقصد مسلمانوں کو آپس میں لڑانا تھا۔واقعہ یہ تھا کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ، جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں،جنگ جمل میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھے۔اور انکا بھی وہی مطالبہ تھا جو مروان بن حکم کا تھا کہ قاتلان عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے قصاص لیا جائے۔
حضرت طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والا قاتل نامعلوم تھا۔جن روایات میں اس کو مروان کی طرف منسوب کیا گیا وہ بالکل مجھول السند ہیں۔
مجھول راول مجھول راوی سے روایت کر رہا ہے ۔تقریبا ہر روایت کی سند میں مجھول راوی ہیں۔کوئی ایک بھی مستند روایت نہیں۔ مروان بن حکم،سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے کاتب تھے اور وہ یقینی طور پر جانتے تھے کہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بچانے والوں میں سے تھے چنانچہ انہوں نے اپنے بیٹے محمد کو باغیوں کا مقابلہ کرنے اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مدد کرنے کے لئے بھیجا تھا ۔حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے اس الزام کے حوالے سے لکھا ہے
فتح الباری جلد 1 ص 443،
وَإِنَّمَا نقموا عَلَيْهِ أَنه رمى طَلْحَة يَوْم الْجمل بِسَهْم فَقتله ثمَّ شهر السَّيْف فِي طلب الْخلَافَة حَتَّى جرى مَا جرى فَأَما قتل طَلْحَة فَكَانَ متأولا فِيهِ كَمَا قَرَّرَهُ الْإِسْمَاعِيلِيّ وَغَيره
*⬅️مروان نے امت میں انتشار پیدا کر دیا:*
*جواب:* یہ بات درست ہے کہ مروان بن حکم اگر شام میں خلافت نہ لیتا تو بنو امیہ کا نشاة ثانیہ نہ ہوتا جبکہ امت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر 7 ماہ تک متحد رہی۔مگر ان امور میں یہ بات ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ مروان بن حکم ،بہرحال ایک جلیل القدر تابعی تھے جن سے کئی تابعین نے روایات لی۔وہ آج کل کے عیاش اور ظالم بادشاہوں سے ہزار درجہ بہتر تھے۔انکو برا بھلا کہنا درست نہیں کہ وہ تابعین میں سے ہیں اور کوئی فعل ظلم کا ان سے سر زد نہیں ہوا۔اس لئے مفتی صاحب نے مروان بن حکم کی جو بھی جو بھی گستاخی کی ہے ان کو اس سے توبہ کرنی چاہیئے اور آئیندہ اس سے بچنا چاہیئے۔
فقط واللہ تعالی اعلم
*⤵️حوالہ جات:*
[ قال ابن سعد، فی الطبقات الكبرى - متمم الصحابة - الطبقة الخامسة، جلد 2 ص 77
فيشتمهم ويتوعدهم وينسبهم إلى الشقاق والنفاق والغش لأمير المؤمنين.
فكتب عبد الله بن الزبير إلى الحارث بن عبد الله بن أبي ربيعة وهو واليه على البصرة. أن يوجه إلى المدينة جيشا. فبعث الحنتف بن السجف التميمي في ثلاثة آلاف. فخرجوا معهم ألف وخمس مائة فرس وبغال وحمولة.
وبلغ الخبر حبيش بن دلجة. فقال: نخرج من المدينة فنلقاهم. فإنا لا نأمن أهل المدينة أن يعينوهم علينا. فخرج وخلف على المدينة ثعلبة الشامي. فالتقوا بالربذة عند الظهر. فاقتتلوا قتالا شديدا. فقتل حبيش بن دلجة. وقتل من أصحابه خمس مائة. وأسر منهم خمس مائة. وانهزم الباقون أسوأ هزيمة
ففرح أهل المدينة بذلك. وقدم بالأسارى فحبسوا في قصر خل . فوجه إليهم عبد الله بن الزبير مصعب بن الزبير فضرب أعناقهم جميعا
قالوا: فلما بويع عبد الملك بن مروان. بعث عروة بن أنيف في ستةآلاف إلى المدينة. وأمرهم أن لا ينزلوا على أحد. ولا يدخلوا المدينة إلا لحاجة لا بد منها. وأن يعسكروا بالعرصة. فنزل عروة بجيشه العرصة. وهرب الحارث بن حاطب عامل ابن الزبير على المدينة. فكان عروة ينزل فيصلي بالناس الجمعة. ثم يرجع إلى معسكره. فلم يبعث إليهم ابن الزبير أحدا ولم يلقوا قتالا. فكتب إليهم عبد الملك. أن يقبلوا إلى الشام ففعلوا. ولم يتخلف منهم أحد. ورجع الحارث بن حاطب إلى المدينة عاملا لابن الزبير. ثم بعث عبد الملك بن مروان. عبد الملك بن الحارث بن الحكم في أربعة آلاف إلى المدينة فما دونها. يلقون جموع ابن الزبير ومن أشرف لهم من عماله» .
وكان سليمان بن خالد بن أبي خالد الزرقي عابدا له فضل. فولاه ابن الزبير خيبر وفدك . فخرج فنزل في عمله. فبعث عبد الملك بن الحارث.
أبا القمقام في خمس مائة إلى سليمان بن خالد. فقتله. وقتل من كان معه.
فلما انتهى خبره إلى عبد الملك بن مروان أغاظه وكره قتله .آلاف إلى المدينة. وأمرهم أن لا ينزلوا على أحد. ولا يدخلوا المدينة إلا لحاجة لا بد منها. وأن يعسكروا بالعرصة. فنزل عروة بجيشه العرصة. وهرب الحارث بن حاطب عامل ابن الزبير على المدينة. فكان عروة ينزل فيصلي بالناس الجمعة. ثم يرجع إلى معسكره. فلم يبعث إليهم ابن الزبير أحدا ولم يلقوا قتالا. فكتب إليهم عبد الملك. أن يقبلوا إلى الشام ففعلوا. ولم يتخلف منهم أحد. ورجع الحارث بن حاطب إلى المدينة عاملا لابن الزبير. ثم بعث عبد الملك بن مروان. عبد الملك بن الحارث بن الحكم في أربعة آلاف إلى المدينة فما دونها. يلقون جموع ابن الزبير ومن أشرف لهم من عماله» .
وكان سليمان بن خالد بن أبي خالد الزرقي عابدا له فضل. فولاه ابن الزبير خيبر وفدك فخرج فنزل في عمله. فبعث عبد الملك بن الحارث.
أبا القمقام في خمس مائة إلى سليمان بن خالد. فقتله. وقتل من كان معه.
فلما انتهى خبره إلى عبد الملك بن مروان أغاظه وكره قتله.ووجه عبد الملك بن مروان طارق بن عمرو في ستة آلاف وأمره أن يكون فيما بين أيلة ووادي القرى مددا لمن يحتاج إليه من عمال عبد الملك بن مروان أو من كان يريد قتاله من أصحاب ابن الزبير. وكان أبو بكر بن أبي قيس في طاعة ابن الزبير قد ولاه جابر بن الأسود خيبر.
فقصد له طارق فقتله في ست مائة من أصحابه. وهرب من بقي منهم في كل وجه. فكتب الحارث بن حاطب إلى عبد الله بن الزبير أن عبد الملك ابن مروان بعث طارق بن عمرو في جمع كثير. فهم فيما بين أيلة إلى ذي خشب . يجدوا في أموال الناس ويقتطعونها ويظلمونهم. فلو بعثت إلى
وقال ابن حبان، فی کتابہ "الثقات" جلد 3 ص84
الحكم بْن أبي الْعَاصِ بْن أُميَّة الْقرشِي لَهُ صُحْبَة وَهُوَ وَالِد مَرْوَان بن الحكم
و فی خلاصة تذهيب تهذيب الكمال، للخزرجی،ص 90،
الحكم بن مَرْوَان الطَّبَرِيّ أَبُو مَرْوَان نزيل مَكَّة عَن ابْن عُيَيْنَة وَعنهُ وَثَّقَهُ ابْن حبَان وَقَالَ مَاتَ سنة بضع عشرَة وَمِائَتَيْنِ
و فی الأعلام للزركلي، جلد 2ص266
الحكم بن أبي العاص بن أمية بن عبد شمس القرشي الأموي: صحابي، أسلم يوم الفتح وسكن المدينة. فكان فيما قيل يفشي سرّ رسول الله صلّى الله عليه وسلم فنفاه إلى الطائف. وأعيد إلى المدينة في خلافة عثمان، فمات فيها، وقد كُفّ بصره. وهو عمّ عثمان بن عفان، ووالد مروان (رأس الدولة المروانية) .
و قال ابن حجر العسقلاني، فی تقريب التهذيب، ص 525۔
مروان ابن الحكم ابن أبي العاص ابن أمية أبو عبد الملك الأموي المدني ولي الخلافة في آخر سنة أربع وستين ومات سنة خمس في رمضان وله ثلاث أو إحدى وستون سنة لا تثبت له صحبة من الثانية [قال عروة بن الزبير: مروان لا يتهم في الحديث
قال ابن القيم في المنار المنيف ص 117: 261: 262۔
وحديث عدد الخلفاء من ولد العباس كذب، وكذلك أحاديث ذم الوليد، وذمّ مروان بن الحكم ..
وقال ابن الأثير في أسد الغابة
جلد 2 ص38 (في ترجمة الحكم)
"وقد روى في لعنه ونفيه أحاديث كثيرة لا حاجة إلى ذكرها، إلَّا أن الأمر المقطوع به أن النبي -صلى الله عليه وسلم- مع حلمه وإغضائه على ما يكره، ما فعل به ذلك إلَّا لأمر عظيم".
وقال الذهبي في تاريخ الإِسلام (عهد الخلفاء) ص 366۔
"ورويت أحاديث منكرة في لعنه لا يجوز الاحتجاج بها, وليس له في الجملة خصوص الصحبة، بل عمومها".
وقال الحافظ ابن حجر في فتح الباري (13/ 13)
"وقد وردت أحاديث في لعن الحكم والد مروان وما ولد، أخرجها الطبراني وغيره، غالبها فيها مقال، وبعضها جيد".
وروايت مروان في صحيح البخاري، جلد 2 ص 142۔رقم 1563
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الحَكَمِ، قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ، وَعَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَعُثْمَانُ «يَنْهَى عَنِ المُتْعَةِ، وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا»، فَلَمَّا «رَأَى عَلِيٌّ أَهَلَّ بِهِمَا، لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ»، قَالَ: «مَا كُنْتُ لِأَدَعَ سُنَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ»
وفیہ ایضا، جلد 4 ص25 رقم الحدیث 2832
حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ مَرْوَانَ بْنَ الحَكَمِ جَالِسًا فِي المَسْجِدِ، فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَى عَلَيْهِ: {لاَ يَسْتَوِي القَاعِدُونَ مِنَ المُؤْمِنِينَ} [النساء: 95] {وَالمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ} [النساء: 95] "، قَالَ: فَجَاءَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمِلُّهَا عَلَيَّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَسْتَطِيعُ الجِهَادَ لَجَاهَدْتُ - وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى - فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي، فَثَقُلَتْ عَلَيَّ حَتَّى خِفْتُ أَنَّ تَرُضَّ فَخِذِي، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: 95]
و فی الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 ص168
قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ قَالَ: قُتِلَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ. يَرْحَمُهُ اللَّهُ. يَوْمَ الْجَمَلِ. وَكَانَ يَوْمَ الْخَمِيسِ لِعَشْرٍ خَلَوْنَ مِنْ جُمَادَى الآخِرَةِ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلاثِينَ. وَكَانَ يَوْمَ قُتِلَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ سَنَةً.
قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: قَالَ لِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: قُتِلَ وَهُوَ ابْنُ اثْنَتَيْنِ وَسِتِّينَ سَنَةً.
قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ مَوْلَى لِطَلْحَةَ قَالَ: دَخَلَ عِمْرَانُ بْنُ طلحة على علي بعد ما فَرَغَ مِنْ أَصْحَابِ الْجَمَلِ فَرَحَّبَ بِهِ وَقَالَ: إِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَنِي اللَّهُ وَإِيَّاكَ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ: «إِخْواناً عَلى سُرُرٍ مُتَقابِلِينَ» الحجر: 47. قَالَ وَرَجُلانِ جَالِسَانِ عَلَى نَاحِيَةِ الْبِسَاطِ فَقَالا: اللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ. تَقْتُلُهُمْ بِالأَمْسِ وَتَكُونُونَ إِخْواناً عَلى سُرُرٍ مُتَقابِلِينَ فِي الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ: قُومَا أَبْعَدَ أَرْضٍ وَأَسْحَقَهَا. فَمَنْ هُوَ إِذًا إِنْ لَمْ أَكُنْ أَنَا وَطَلْحَةُ؟ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِعِمْرَانَ: كَيْفَ أَهْلُكَ مَنْ بَقِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ أَوْلادِ أَبِيكَ؟ أَمَا إِنَّا لَمْ نَقْبِضْ أَرْضَكُمْ هَذِهِ السِّنِينَ وَنَحْنُ نُرِيدُ أَنْ نَأْخُذَهَا. إِنَّمَا أَخَذْنَاهَا مَخَافَةَ أَنْ يَنْتَهِبَهَا النَّاسُ. يَا فُلانُ اذْهَبْ مَعَهُ إِلَى ابْنِ قَرَظَةَ فَمُرْهُ فَلْيَدْفَعْ إِلَيْهِ أَرْضَهُ وَغَلَّةَ هَذِهِ السِّنِينَ. يَا ابْنَ أَخِي وَأَتِنَا فِي الْحَاجَةِ إِذَا كَانَتْ لَكَ] .
[قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حَبِيبَةَ قَالَ:
جَاءَ عِمْرَانُ بْنُ طَلْحَةَ إِلَى عَلِيٍّ فَقَالَ: تَعَالَ هَاهُنَا يَا ابْنَ أَخِي. فَأَجْلَسَهُ عَلَى طَنْفَسَتِهِ فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَأَبُو هَذَا مِمَّنْ قَالَ اللَّهُ: وَنَزَعْنا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْواناً عَلى سُرُرٍ مُتَقابِلِينَ. فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ: اللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ. فَقَامَ إِلَيْهِ بِدِرَّتِهِ فَضَرَبَهُ وَقَالَ: أَنْتَ. لا أُمَّ لَكَ. وَأَصْحَابُكَ تُنْكِرُونَ هَذَا؟
قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ قَالَ: إِنِّي لَعِنْدَ عَلِيٍّ جَالِسٌ إِذْ جَاءَ ابْنُ طَلْحَةَ فَسَلَّمَ عَلَى عَلِيٍّ. فَرَحَّبَ بِهِ عَلِيٌّ. فَقَالَ: تُرَحِّبُ بِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَقَدْ قَتَلْتَ وَالِدِي وَأَخَذْتَ مَالِي؟ قَالَ: أَمَّا مَالُكَ فَهُوَ مَعْزُولٌ فِي بَيْتِ الْمَالِ. فَاغْدُ إِلَى مَالِكَ فَخُذْهُ. وَأَمَّا قَوْلُكَ قَتَلْتَ أَبِي فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَأَبُوكَ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ:
«وَنَزَعْنا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْواناً عَلى سُرُرٍ مُتَقابِلِينَ» الحجر: 47. فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ أَعْوَرُ: اللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ. فَصَاحَ عَلِيٌّ صَيْحَةً تَدَاعَى لَهَا الْقَصْرُ.
قَالَ: فَمَنْ ذَاكَ إِذَا لَمْ نَكُنْ نَحْنُ أُولَئِكَ؟
قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ قَالَ: أخبرنا عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجَمَلِ فَقَالَ: ائْذَنُوا لِقَاتِلِ طَلْحَةَ. قَالَ فَسَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: بَشِّرْهُ بِالنَّارِ.
و فی الإصابة في تمييز الصحابة، جلد 2 ص91،92
الحكم بن أبي العاص بن أميّة بن عبد شمس القرشي الأموي، عمّ عثمان ابن عفّان، ووالد مروان.
قال ابن سعد: أسلم يوم الفتح، وسكن المدينة ثم نفاه النبيّ صلّى اللَّه عليه وسلّم إلى الطّائف، ثم أعيد إلى المدينة في خلافة عثمان، ومات بها.
وقال ابن السّكن. يقال إنّ النبيّ صلّى اللَّه عليه وسلّم دعا عليه، ولم يثبت ذلك.
وروى الفاكهيّ من طريق حماد بن سلمة، حدثنا أبو سنان، عن الزهري، وعطاء الخراساني أنّ أصحاب النبيّ صلّى اللَّه عليه وسلّم دخلوا عليه وهو يلعن الحكم بن أبي العاص، فقالوا: يا رسول اللَّه، ما له؟ قال: «دخل عليّ شقّ الجدار وأنا مع زوجتي فلانة فكلح في وجهي» ، فقالوا: أفلا نلعنه نحن؟ قال: «كأني انظر إلى بنيه يصعدون منبري وينزلونه» ، فقالوا: يا رسول اللَّه، ألا تأخذهم؟ قال: «لا» . ونفاه رسول اللَّه صلّى اللَّه عليه وسلّم.
وروى الطّبرانيّ من حديث حذيفة قال: لما ولى أبو بكر كلم في الحكم أن يردّه إلى المدينة، فقال: ما كنت لأحلّ عقدة عقدها رسول اللَّه صلّى اللَّه عليه وسلّم.
وروى أيضا من حديث عبد الرحمن بن أبي بكر. قال: كان الحكم بن أبي العاص يجلس عند النبي صلّى اللَّه عليه وسلّم فإذا تكلم اختلج فبصر بن النبيّ صلّى اللَّه عليه وسلّم فقال: «كن كذلك» ، فما زال يختلج حتى مات. في إسناده نظر.
وأخرجه البيهقيّ في «الدّلائل» من هذا الوجه، وفيه ضرار بن صرد، وهو منسوب للرفض.
وأخرج أيضا من طريق مالك بن دينار: حدثني هند بن خديجة زوج النبي صلّى اللَّه عليه وسلّم. مرّ النبيّ صلّى اللَّه عليه وسلّم بالحكم فجعل الحكم يغمز النبيّ صلّى اللَّه عليه وسلّم بإصبعه، فالتفت فرآه، فقال: «اللَّهمّ اجعله ورعا» . فرجف مكانه.
وقال الهيثم بن عديّ عن صالح بن حسان، قال: قال الأحنف لمعاوية: ما هذا الخضوع لمروان؟ قال: إن الحكم كان ممن قدم مع أختي أم حبيبة لما زفّت إلى النبي صلّى اللَّه عليه وسلّموهو يتولى نعلها ، فجعل رسول اللَّه صلّى اللَّه عليه وسلّم يحدّ النظر إلى الحكم، فلما خرج من عنده قيل له: يا رسول اللَّه، أحددت النظر إلى الحكم. فقال: «ابن المخزوميّة! ذاك رجل إذا بلغ ولده ثلاثين أو أربعين ملكوا الأمر» .
وروينا في جزء ابن نجيب، من طريق زهير بن محمد، عن صالح بن أبي صالح، حدثني نافع بن جبير بن مطعم، عن أبيه، قال: كنا مع النبيّ صلّى اللَّه عليه وسلّم فمرّ الحكم بن أبي العاص، فقال النبي صلّى اللَّه عليه وسلّم: «ويل لأمّتي في صلب هذا» .
وروى ابن أبي خيثمة من حديث عائشة أنها قالت لمروان في قصة أخيها عبد الرحمن لما امتنع من البيعة ليزيد بن معاوية. أمّا أنت يا مروان فاشهد أنّ رسول اللَّه صلّى اللَّه عليه وسلّم لعن أباك وأنت في صلبه.
قلت: وأصل القصة عند البخاريّ بدون هذه الزيادة.
وذكر أبو عمر في السّبب في طرده قولا آخر: إنه كان يشيع سرّ رسول اللَّه صلّى اللَّه عليه وسلّم، وقيل: كان يحكيه في مشيته، ويقال: إنّ عثمان رضي اللَّه عنه اعتذر لما أن أعاده إلى المدينة بأنه كان استأذن النبيّ صلّى اللَّه عليه وسلّم فيه، وقال: قد كنت شفعت فيه فوعدني بردّه.
وأخرج ابن سعد عن الواقديّ بسنده إلى ثعلبة بن أبي مالك، قال: مات الحكم بن أبي العاص في خلافة عثمان، فضرب على قبره فسطاط في يوم صائف، فتكلم الناس في ذلك، فقال عثمان: قد ضرب في عهد عمر على زينب بنت جحش فسطاط، فهل رأيتم عائبا عاب ذلك؟ مات الحكم سنة اثنتين وثلاثين في خلافة عثمان.
وأخرج الحاكم جلد 3 ص418 رقم الحدیث 5593
حدثني محمد بن ظفر الحافظ وأنا سألته حدثني الحسين بن عياش القطان ثنا الحسين ثنا يحيى بن عياش القطان (مجهول) ثنا الحسين بن يحيى المروزي (مجهول) ثنا غالب بن حَلْبس الكلبي أبو الهيثم (صدوق) ثنا جويرية بن أسماء عن يحيى بن سعيد ثنا عمي (مجهول) قال: لما كان يوم الجمل نادى علي في الناس: «لا ترموا أحدا بسهم ولا تطعنوا برمح ولا تضربوا بسيف ولا تطلبوا القوم، فإن هذا مقام من أفلح فيه فلح يوم القيامة» قال: فتوافقنا، ثم إن القوم قالوا بأجمع: «يا ثارات عثمان» قال: وابن الحنفية أمامنا بربوة معه اللواء، قال: فناداه علي قال: فأقبل علينا يعرض وجهه، فقال: «يا أمير المؤمنين يقولون "يا ثارات عثمان"». فمد علي يديه وقال: «اللهم أكب قتلة عثمان اليوم بوجوههم». ثم إن الزبير قال للأساورة كانوا معه قال: «أرموهم برشق». وكأنه أراد أن ينشب القتال. فلما نظر أصحابه إلى الإنتشاب، لم ينتظروا، وحملوا، فهزمهم الله. ورمى مروانُ بن الحكم طلحةَ بن عبيد الله بسهمٍ فشكّ ساقه بجنب فرسه، فقبض به الفرس، حتى لحِقه فذبحه! فالتفت مروان إلى أبان بن عثمان -وهو معه- فقال: «لقد كفيتك أحد قتلة أبيك».
- وأخرج ابن سعد في الطبقات جلد 3 ص223
: أخبرني من سمع أبا حباب الكلبي (لا یوجد ھذا الراوی)يقول حدثني شيخ من كلب(مجھول) قال سمعت عبد الملك بن مروان يقول: «لولا أن أمير المؤمنين مروان أخبرني أنه هو الذي قتل طلحة ما تركت من ولد طلحة أحدا إلا قتلته بعثمان بن عفان».
وأخرج ابن عساكر في تاريخ دمشق (60|423) في ترجمة موسى بن طلحة بن عبيد الله:
أخبرنا أبو القاسم بن السمرقندي أنا أبو الفضل بن البقال أنا أبو الحسين بن بشران أنا عثمان بن أحمد نا حنبل بن إسحاق نا الحميدي نا سفيان عن عبد الملك بن مروان قال دخل موسى بن طلحة على الوليد بن عبد الملك فقال له الوليد: «ما دخلت علي قط إلا هممت بقتلك لولا أن أبي أخبرني أن مروان قتل طلحة».
و ھذا الحدیث فإن كان المروي عنه عبد الملك بن مروان، فلم يدركه سفيان أساساً، فلا يصح الخبر. وإن كان الراوي عنه هو عبد الملك بن أبي مروان، فهو رجل مجهول لا يُعرف،
و من الاحادیث فی لعن مروان بن الحکم،
فی المعجم الكبير للطبراني
رقم الحديث : 2676
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ قَالا : ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ الأَنْمَاطِيُّ ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالا : ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، قَالَ : كُنْتُ بَيْنَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَمَرْوَانَ يَتَسابَّانِ ، فَجَعَلَ الْحَسَنُ يُسْكِتُ الْحُسَيْنَ ، فَقَالَ مَرْوَانُ : أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ ، فَغَضِبَ الْحَسَنُ ، وَقَالَ : " قُلْتَ أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ لَعَنَكَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتَ فِي صُلْبِ أَبِيكَ
و فی مسند أبي يعلى الموصلي
،رقم الحديث : 6722
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، قَالَ : كُنْتُ بَيْنَ الْحُسَيْنِ وَالْحَسَنِ ، وَمَرْوَانَ يَتَشَاتَمَانِ ، فَجَعَلَ الْحَسَنُ يَكُفُّ الْحُسَيْنَ ، فَقَالَ مَرْوَانُ : أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ ، فَغَضِبَ الْحَسَنُ ، فَقَالَ : " أَقُلْتَ : أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ ؟ فَوَاللَّهِ لَقَدْ لَعَنَكَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنْتَ فِي صُلْبِ أَبِيكَ " .
قال الذهبي في سير أعلام النبلاء جلد 2 ص108
وَيُرْوَى فِي سَبِّهِ أَحَادِيْثُ لَمْ تَصِحَّ
وقال الذهبي في "تاريخه"
جلد 2 ص96
«وقد وردت أحاديث منكرة في لعنه، لا يجوز الاحتجاج بها»
*⬅️سوالنمبر 3 کا جواب:*
دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن پاکستان کی معروف ترین دارالافتاؤں میں سے ایک دارالافتاء ہے اس دارالافتاء کے فتوی نمبر 144111200753 کے تحت اس نام کے رکھنے میں کوئی حرج نہیں اور یاد رہے مروان متعدد صحابہؓ کا نام تھا،صحابی رسولﷺ کا نام ہونے کی حیثیت سے یہ نام رکھنا درست اور مسنون ہے۔
فقط واللہ اعلم بالصواب
Comments