*🌻بـــــارہ ربـــــیع الاول  حقــیـــــقت و شـــرعی حــیـثـیت:* 

اسے دعوت سے روگردانی کے علاوہ کیا کہا جاسکتا ہے کہ مسلم معاشرہ میں بدعات و خرافات کارواج ہے، باطل نظریات اور غلط عقائد وافکار کی حکمرانی ہے، اہل باطل ان بدعتوں پر دین کا لیبل چسپاں کرکے عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں اور عوام اس پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں، رفتہ رفتہ وہ بدعتیں پھیل جاتی ہیں اور معاشرہ میں اس کی جڑیں مضبوط ہوجاتی ہیں۔ ان بدعتوں میں سرفہرست *"عیدمیلاد النبی"* ہے، جسے معاشرہ کے اکثر افراد دین تصور کرتے ہیں اور عبادت سمجھ کر منائی جاتی ہے، جلوس نکالے جاتے ہیں، جلسوں کا اہتمام کیاجاتا ہے، محفل میلاد منعقد کی جاتی ہے۔حالانکہ یہ سب محض بدعات ہیں، دین سے ان کا کوئی تعلیق نہیں ہے لیکن اس کا کیا کیجئے کہ برصغیر میں12 ربیع الاول باقاعدہ ایک جشن اور ایک تہوار کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ ربیع الاول کا مہینہ آتا ہے تو ملک بھر میں سیرت النبیﷺ‎ اور میلاد النبیﷺ‎ کا ایک غیر متناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک تذکرہ اتنی بڑی سعادت ہے کہ اس کے برابر کوئی اور سعادت نہیں ہوسکتی۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ معاشرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک تذکرہ کو اس ماہ ربیع الاول کیساتھ بلکہ محض12 ربیع الاول کیساتھ مخصوص کردیا گیا ہے۔ربیع الاول کے شروع ہوتے ہی عید میلادالنبیﷺ‎ کی تقریبات کے انتظامات شروع ہوجاتے ہیں۔12ربیع الاول کو نہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یومِ ولادت کی خوشی منائی جاتی ہے بلکہ اسے’ تیسری عید‘ سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔یومِ ولادت کی تاریخ تمام مؤرخین اور اصحاب ِسیر کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت پیرکے دن ہوئی جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ کی درج ذیل روایت سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایاکہ یہی وہ دن ہے جس میں میں پیدا ہوا اور جس میں مجھے منصبِ رسالت سے سرفراز کیا گیا۔’کسی کو شک ہو تو وہ مسلم: کتاب الصیام: باب استحباب صیام ثلاثة ایام ؛1162سے رجوع کرلے البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ ولادت کیا ہے۔ حافظ ابن کثیررحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس بات پر اتفاق ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل یعنی جس سال ابرہہ نے ہاتھیوں کے لشکر سے بیت اللہ شریف پر حملہ کیا، پیدا ہوئے۔ نیز فرماتے ہیں کہ اس میں بھی اختلاف نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے روز پیدا ہوئے۔ نیز لکھتے ہیں کہ جمہور اہل علم کا مسلک یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ ربیع الاول میں پیدا ہوئے لیکن یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ کے اول، آخر یا درمیان یا کس تاریخ کو پیدا ہوئے؟ اس میں مؤرخین اور سیرت نگاروں کے متعدد اقوال ہیں کسی نے ربیع الاول کی دو تاریخ کہا، کسی نے آٹھ، کسی نے دس، کسی نے بارہ، کسی نے سترہ، کسی نے اٹھارہ اور کسی نے بائیس ربیع الاول کہا۔ پھر حافظ ابن کثیررحمة اللہ علیہ نے ان اقوال میں سے دو کو راجح قرا ردیا، ایک بارہ اور دوسرا آٹھ اور پھر خود ان دو میں سے آٹھ ربیع الاول کے یوم ولادت ہونے کو راجح قرار دیا۔ تفصیل کیلئے البدایہ والنھایہ کے صفحات259 تا262 ج2موجود ہیں۔ اور علامہ سید سلیمان ندویؒ نے رحمة للعالمین میں ۱۲/ ربیع الاول کے قول کوبالکل غیر معتبر قرار دیا ہے اور ٩ ربیع الاول کو راحج اور  مختار قول قرار دیا۔

 دیکھئے:سیرت المصطفی،قصص القرآن،رحمة للعالمین،سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم، وغیرہ

 *🌼مــومــن نـہــــیں ہـــو ســــــکــتا:* 

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بخاری و مسلم روایت ہے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یوں فرمایا ہے کہ ’کوئی آدمی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنی اولاد اور والدین اور باقی تمام لوگوں کے مقابلے میں مجھ سے زیادہ محبت نہ کرتا ہو۔‘وہ محبت جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت اور پیروی کرنا نہ سکھائے محض جھوٹ اور نفاق ہے۔وہ محبت جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی غلامی کے آداب نہ سکھائے وہ محض دکھاوا اور ریا ہے۔حضور علیہ السلام کی پیروی کی جائے۔ فرنبرداری اور آپ کی سنت پر عمل کیا جائے۔تمام اقوال و افعال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کیا جائے۔جن باتوں سے منع کیا گیا ہے ان سے احتراز (پرہیز) کیا جائے اور ممنوع افعال سے اعراض کیا جائے۔خوشی و شادمانی، عیش و مسرت اور مصائب و پریشانی ہی نہیں بلکہ ہر حال میںنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے نصیحت و موعظت حاصل کرے۔اپنی خواہشاتِ نفسی کے مقابلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی پیروی کی جائے احکام شریعت پر عمل کیا جائے اور ہر حال میں ان کو ترجیح بلا مرجیع دی جائے۔کثرت سے ذکرِ محبوب کیا جائے کیونکہ محب ہر حال میں محبوب کا تذکرہ حرزِ جاں رکھتا ہے۔قرآنِ پاک سے محبت کرے اس کی تلاوت بمعہ ترجمہ اپنی سمجھ کیلئے پڑھے۔اس کے احکام کو جاننے کی کوشش کرے۔امتِ مسلمہ کیساتھ شفقت سے پیش آئے غربآئ،مساکین، یتیموں،اور کمزوروں سے محبت رکھے ان کی خیر خواہی کرے اور انہیں کلماتِ خیر سے یاد رکھے جبکہ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی امت سے بے حد محبت فرماتے اور مہربان ہیں۔محبت کا دعوے دار تارک الدنیا ، زاہد صفت ہو اور فقر و فاقہ کا خوگر ہو اور یادِ محبوب پاک میں ہر لمحہ آنکھیں پرنم ہوں۔ ورنہ وہ اپنے دعویٰ محبت میں سچا نہیں۔سورة النور میں اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے کہ اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں اور اس کی نا فرمانی سے بچتے رہتے ہیں تو وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔


 *🌼مــنکرات کــاارتــــکاب:* 

 بعثت کے بعد آپﷺ‎23سال تک اس دنیا میں بقیدِ حیات رہے ہر سال ربیع الاوّل کا مہینہ آیا، لیکن نہ صرف یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاوّل کے کسی بھی دن کو یومِ پیدائش کے طور پر نہیں منایا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے حاشیہ خیال میں بھی یہ نہیں گذرا کہ ہمیں اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن منانا اور اس میں کسی قسم کی تقریبات وغیرہ کا انعقاد کرنا چاہئے۔عید میلاد کے منانے والوں پر اگر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو اکثر ایسے افراد ملیں گے جو دین سے ناواقف اور احکام شریعت سے نا آشنا ہوتے ہیں؛ لیکن جوں جوں ربیع الاوّل کا مہینہ قریب آتا ہے ان افراد میں جوش وخروش پیداہوتا جاتا ہے اور یہ عیدمیلاد منانے کی تیاری شروع کردیتے ہیں۔ اس کو اپنے تمام گناہوں کا کفارہ سمجھتے ہیں۔ حقائق اور غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو سچ میں نا تو یہ عید ہے اور نہ ہی کوئی اور اسلامی تہوار،محض ایک دکھاوا اور عیسائیوں کی سی رسم ہے۔

فقط واللہ اعلم بالصواب 

*🌻کــہاں ســـے آئـــی تیســـری عـــید؟* 

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار بجاہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا یہ طریقہ اور جشن و جلوس کا یہ سلسلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی رو سے جائز بھی ہے یا نہیں؟ شریعت کی عدالت میں اس کی کوئی حیثیت بھی ہے یا نہیں؟ اور اللہ کی بارگاہ میں یہ قابل قبول بھی ہے یا نہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تیسری عید کہاں سے آئی؟جبکہ اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں جنھیں 

⬅️عیدالفطر 

اور

⬅️عیدالاضحی 

کے نام سے جانا جاتا ہے۔کیا اس سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ خوشی کے دو تہوار منایا کرتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے استفسار پر انہوں نے کہا کہ قدیم دورِ جاہلیت سے ہم اسی طرح یہ تہوار مناتے آرہے ہیں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوداود: کتاب الصلاة، باب صلاة العیدین ؛1931 کے مطابق یوں فرمایاکہ’اللہ تعالی نے ان دو دنوں کے بدلے میں تمہیں ان سے بہتر دو خوشی کے دن عطا فرمائے ہیں ؛

⬅️ ایک عیدالفطر 

اور

⬅️ دوسرا عیدالاضحی 

ان دونوں عیدوں کے موقع پر باادب طریقہ سے نمازِ عید ادا کی جاتی اور اللہ کا شکر بجا لایا جاتا ہے۔یہ جشنِ ولادت ہے یا جشن وفات؟

12ربیع الاول کے حوالہ سے عوام کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا دن ہے حالانکہ 12ربیع الاول کے یوم ولادت ہونے پر مؤرخین کا ہرگز اتفاق نہیں۔ البتہ اس بات پر تقریباً تمام مؤرخین اور سیرت نگاروں کا اتفاق ہے کہ 12ربیع الاول کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔

 

*🌼بــدعتِ عـــیدمــیلاد کــا مـــوجد کـــون؟* 

عیدمیلاد کاجشن سب سے پہلے چوتھی صدی ہجری میں رافضی و غالی شیعہ یا فاطمی نے حب ِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور حبِ اہل بیت کی آڑ میں اس وقت جاری کیا جب انہیں مصر میں باقاعدہ حکومت و اقتدار نصیب ہوگیا۔ ان لوگوں نے نہ صرف میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تہوار جاری کیا بلکہ حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حسن و حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ‘میلاد’ بھی سرکاری سطح پر جاری کئے۔ حافظ ابن کثیررحمة اللہ علیہ کے بقول یہ کافر و فاسق، فاجر و ملحد، زندیق و بے دین، اسلام کے منکر اور مجوسیت و ثنویت کے معتقد تھے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حدود کو پامال کیا، زنا کو جائز، شراب اور خون ریزی کو حلال قرار دیا۔ یہ دیگر انبیاکرام علیہ الصلوة والسلام کو گالیاں دیتے اور سلف صالحین پر لعن طعن کرتے تھے۔فاطمی خلفا بڑے مالدار، عیاش اور جابر و سرکش تھے۔ ان کے ظاہر و باطن میں نجاست کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی۔ ان کے دورِ حکومت میں منکرات و بدعات ظہور پذیر ہوئیں.سلطان صلاح الدین ایوبی نے864 ہجری میں مصر پر چڑھائی کی اور 868ہجری تک ان کا نام و نشان مٹا دیا۔البدایہ والنھایہ کے مطابق بدعتِ عیدمیلاد اور میلاد حسن و حسین کے موجد یہی فاطمی شیعہ تھے ۔ 

▪️ مصر ہی کے ایک معروف مفتی علامہ محمد بخیت اپنی کتاب ’احسن الکلام فیما یتعلق بالسنة والبدعة من الاحکام کے صفحہ44,54پریوں رقم طراز ہیں کہ’سب سے پہلے قاہرہ )مصر( میں عید میلاد فاطمی حکمرانوں نے ایجاد کی اور ان فاطمیوں میں سے بھی المعزلدین اللہ سرفہرست ہے۔ جس کے عہد ِحکومت میں چھ میلاد ایجاد کئے گئے یعنی میلادالنبی، میلادِ علی، میلادِ فاطمہ، میلادِ حسن، میلادِ حسین، اور حاکم وقت کا میلاد۔ یہ میلاد بھرپور رسم و رواج کیساتھ جاری رہے حتیٰ کہ افضل بن امیر الجیوش نے بالآخر انہیں ختم کیا۔

▪️ علامہ تقی الدین احمد بن علی مقریزی اس بدعت کی حقیقت پریوں روشنی ڈالتے ہیںکہ’فاطمی حکمران سال بھر میلاد، تہوار اور جشن مناتے رہتے۔اس سلسلہ میں ہر سال کے آغاز پر اور عاشورا کے روز جشن منایا جاتا۔ اسی طرح میلاد النبی، میلادِ علی، میلاد فاطمة الزہرہ، میلادِ حسن، میلاد حسین اور حاکم وقت کا میلاد بھی منایا جاتا۔

▪️ علامہ ابوالعباس احمد بن علی قلقشندی بھی اسی بات کا ذکر کرتے ہوئے شاہد ہیںکہ’ فاطمی حکمران 12ربیع الاول کو تیسرا جلوس نکالتے تھے اور اس جلوس کے موقع پر ان کا معمول یہ تھا کہ دارالفطرة،مقام میں20 قنطار،پیمانہ عمدہ شکر سے انواع و اقسام کا حلوہ تیار کیا جاتا اور پیتل کے300 خوبصورت برتنوں میں ڈال لیا جاتا۔ پھر جب میلاد کی رات ہوتی تو شریک ِمیلاد مختلف لوگ مثلا قاضی القضاة یاچیف جسٹس، داعی و مبلغ اور خطبا و قرا حضرات، قاہرہ اور مصر کی دیگر یونیورسٹیوں کے اعلی عہدیداران اور مزاروں وغیرہ کے دربان و نگران حضرات میں تقسیم کیا جاتا۔ صبح الاعشی فی صناعة الانشامیں بدعت ِمیلاد سے متعلقہ مزید تفصیل ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔


 *🌼مـــــضر اثــــرات کــا فـــروغ:* 

مصر کے فاطمیوں سے عراق،اربل و موصل کے سنّیوں تک عیدوں اور میلادوں کا جو سلسلہ مصر کے رافضی حکمرانوں نے ایجاد کیا تھا، وہ اگرچہ خلیفہ افضل بن امیر الجیوش نے اپنے عہد حکومت میں ختم کردیا لیکن اس کے مضر اثرات اطراف واکناف میں پھیل چکے تھے۔ حتی کہ رافضی شیعوں سے سخت عداوت رکھنے والے سنی بھی ان کی دیکھا دیکھی عیدمیلاد منانے لگے۔ البتہ سنیوں نے اتنی ترمیم ضرور کرلی کہ شیعوں کی طرح میلادِ علی، میلادِ حسن و حسین وغیرہ کی بجائے صرف میلاد النبیﷺ‎پر زور دیا۔ چنانچہ ابو محمد عبدالرحمن بن اسماعیل المعروف ابوشامہ کے بقول’ سنیوں میں سے، سب سے پہلے موصل شہر میں عمر بن محمد ملا نامی معروف زاہد نے میلاد منایا۔ پھر اس کی دیکھا دیکھی ‘اربل’کے حاکم نے بھی ،سرکاری طورپرجشن میلاد منانا شروع کردیا۔ اربل کا یہ حاکم ابوسعید کوکبوری بن ابی الحسن علی بن بکتیکن بن محمد تھا جو مظفر الدین کوکبوری کے لقب سے معروف تھا۔ 586ہجری میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسے اربل کا گورنر مقرر کیا مگر یہ بے دین، عیاش اور ظالم و سرکش ثابت ہوا جیسا کہ یاقوت حموی لکھتے ہیں کہ ’یہ گورنر بڑا ظالم تھا، عوام پر بڑا تشدد کرتا، بلا وجہ لوگوں کے اَموال ہتھیالیتا اور اس مال ودولت کو غریبوں، فقیروں پر خرچ کرتا اور قیدیوں کو آزاد کرنے میں صرف کرتااور ایسے ہی شخص کے بارے میں شاعر یوں کہتا ہے کہ ’یہ تو اس عورت کی طرح ہے جو بدکاری کی کمائی سے صدقہ خیرات کرتی ہے۔ اے بدکار عورت! تیرے لئے ہلاکت ہے۔نہ تو زنا کر اور نہ ایسی گندی کمائی سے صدقہ کر۔‘اسی ‘صاحب ِاربل’ ہی کے بارے میں امام سیوطی یوں رقم طراز ہیں کہ ’سب سے پہلے اربل میں، جس نے عید ِمیلاد کی بدعت ایجادکی، وہ اربل کا حاکم الملک المظفر ابوسعید کوکبوری تھا۔شاہِ اربل بدعت ِمیلاد کا انعقاد کس جوش و خروش اور اہتمام و انصرام سے مناتا تھا، اس کا تذکرہ ابن خلکان نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ’محرم کے شروع ہوتے ہی بغداد، موصل، جزیرہ، سنجار، نصیبین اور عجم کے شہروں سے فقہا، صوفیا، وعظا، قرا اور شعرا حضرات اربل آنا شرو ع ہوجاتے اور شاہ اربل مظفرالدین کوکبوری ان ‘مہمانوں’ کیلئے چار چار، پانچ پانچ منزلہ لکڑی کے قبے تیار کرواتا۔ ان میں سب سے بڑا قبہ اور خیمہ خود بادشاہ کا ہوتا اور باقی دیگر ارکانِ حکومت کیلئے ہوتے۔ ماہِ صفر کے آغاز میں ان قبوں اور خیموں کو خوب سجا دیا جاتا اور ہر قبے میں آلاتِ رقص و سرود کا اہتمام کیا جاتا۔ ان دنوں لوگ اپنی کاروباری اور تجارتی مصروفیات معطل کرکے سیرو تفریح کیلئے یہاں جمع ہوتے۔ حاکم وقت ہر روز عصر کے بعد ان قبوں کی طرف نکلتا اور کسی ایک قبے میں رقص و سرود کی محفل سے لطف اندوز ہوتا۔ پھر وہیں محفل میں رات گزارتا اور صبح کے وقت شکار کیلئے نکل جاتا، پھربو قت ِدوپہر اپنے محل میں واپس لوٹ آتا۔ عید ِمیلاد تک شاہِ اربل کا یہی معمول رہتا۔ ایک سال 8ربیع الاول اور ایک سال 12 ربیع الاول کو عیدمیلاد منائی جاتی۔ اس لئے کہ اس وقت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت کی تعیین میں اختلاف پایا جاتا تھا۔ عیدمیلاد سے دو دن پہلے شاہِ اربل اونٹوں، گائیوں اور بکریوں کی بہت بڑی تعداد اور طبلے، سارنگیاں وغیرہ کیساتھ میلاد منانے نکلتا اور ان جانوروں کو ذبح کرکے شرکائے میلاد کی پرتکلف دعوت کی جاتی۔سبط ابن جوزی کا بیان یوں ہے کہ ’اس بادشاہ )کوکبوری کے منعقد کردہ جشن میلاد کے دستر خوان پر حاضر ہونے والے ایک شخص کا بیان ہے اس نے دستر خوان پر5 ہزار بھنے ہوئے بکرے، دس ہزار مرغیاں،100گھوڑے، ایک لاکھ پیالے اور 30ہزار حلوے کی پلیٹیں شمار کیں۔ اس کے پاس محفل میلاد میں بڑے بڑے مولوی اور صوفی حاضر ہوتے جنہیں وہ خلعت فاخرہ سے نوازتا، ان کیلئے خیرات کے دروازے کھول دیتا اور صوفیا کیلئے ظہر سے فجر تک مسلسل محفل سماع منعقد کرواتا جس میں وہ بذاتِ خود شریک ہوکر رقص کرتا۔ ہر سال اس محفل میلاد پر یہ بادشاہ تین لاکھ دینار خرچ کرتا تھا۔


 *🌻بـــاطـــل تــاویــلات کـا ســــہارا:* 

بدعتِ میلاد اور نفس پرست علما بدعت ِمیلاد جب شیعوں سے سنّیوں اور سنّیوں کے بھی بادشاہوں میں رائج ہوگئی تو اب ان بادشاہوں کے خلاف آواز حق بلند کرنا یا دوسرے لفظوں میں ان کے بدعات و خرافات پر مذمت کرنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ اس پرطرہ یہ کہ بعض خود غرض مولویوں نے بادشاہِ وقت کی ان تمام خرافات کو عین شریعت اور کارِ ثواب قرا ر دے دیا۔ چنانچہ عمر بن حسن المعروف ابن دحیہ اندلسی نامی ایک مولوی نے ’التنویر فی مولد البشیر والنذیر‘ کتاب لکھی جس میں قرآن و سنت کے نصوص کو سیاق و سباق سے کاٹ کر اور انہیں تاویلاتِ باطلہ کا لبادہ اوڑھا کر عیدمیلاد کو شرعی امر ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی اور بادشاہِ وقت سے ہزار دینار انعام حاصل کیا۔ واضح رہے کہ اس ابن دحیہ اندلسی کو محدثین نے ضعیف اور ناقابل اعتماد راوی قرار دیا ہے مثلاً امام ذہبی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ متہم،جس پر جھوٹ کاالزام ہو، راوی ہے۔ اسی طرح حافظ ابن حجررحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’یہ ظاہری مذہب کا حامل تھا۔ ائمہ کرام اور سلف صالحین کی شان میں گستاخی کرتا تھا۔ خبیث اللسان، احمق، شدید متکبر، دینی امور میں کم علم اور بے عمل شخص تھا۔‘


 *☀️بـــرصــغیر مـــیں شــــروعــات:* 

اس طرح بدعت ِمیلادچوتھی صدی ہجری 361 میں مصر کے فاطمیوں یاغالی شیعہ نے ایجاد کی پھر چھٹی صدی ہجری میں سنیوں میں بھی یہ رواج پاگئی۔ تاہم گردشِ ایام کیساتھ یہ بدعت طبعی موت مرگئی۔ پھر برسوں بعد برصغیر میں انگریز کے آخری دور میں یہ دوبارہ زندہ ہوگئی۔ اس لئے کہ برصغیر کی عیسائی حکومت ہر25 دسمبر کوسرکاری سطح پر حضرت عیسی علیہ السلام کے یومِ ولادت کا جشن مناتی تھی جس کی دیکھا دیکھی بعض کم علم مسلمانوں نے حبِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے احساس سے اپنے طور پر عیدمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا شروع کردی۔ اگرچہ بعض لوگ بدعت ِمیلاد کے قلابے اکبر دور سے ملاتے ہیں مگر معقول بات یہی دکھائی دیتی ہے کہ عیسائیوں کے کرسمس کے ردعمل میں مسلمانوں نے عید میلاد کو رواج دیا۔روزنامہ ‘کوہستان22 جولائی1964میں احسان بی اے ‘لاہور میں عیدمیلاد النبی ‘ کی سرخی کے تحت لکھتے ہیں کہ ’لاہور میں عیدمیلاد النبی کا جلوس سب سے پہلے 5جولائی1933مطابق12ربیع الاول 1352ھ کونکلا۔ اس کیلئے انگریزی حکومت سے باقاعدہ لائسنس حاصل کیا گیاتھا۔ اس کا اہتمام انجمن فرزندانِ توحید موچی دروازہ نے کیا۔ اس انجمن کامقصد ہی اس کے جلوس کا اہتمام کرنا تھا۔ انجمن کی ابتدا ایک خوبصورت جذبہ سے ہوئی۔ موچی دروازہ لاہور کے ایک پرجوش نوجوان حافظ معراج الدین اکثر دیکھاکرتے تھے کہ ہندو اور سکھ اپنے دھرم کے بڑے آدمیوں کی یاد بڑے شاندار طریقے سے مناتے ہیں اور ان دنوں ایسے لمبے لمبے جلوس نکالتے ہیں کہ کئی بازار ان کی وجہ سے بند ہوجاتے ہیں۔ حافظ معراج الدین کے دل میں خیال آیا کہ دنیا کیلئے رحمت بن کر آنے والے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی یاد میں اس سے بھی زیادہ شاندار جلوس نکلنا چاہئے ۔ انہوں نے ایک انجمن قائم کی جس کا مقصد عیدمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جلوس مرتب کرنا تھا۔ اس میں متعدد عہدیدار شامل تھے جن میںصدر: مستری حسین بخش، نائب صدر: مہر معراج دین ، حافظ معراج الدین ،پراپیگنڈہ سیکرٹری: میاں خیر دین بٹ بابا خیرا،خزانچی: حکیم غلام ربانی کے نام نمایاں ہیں۔ اشتہارات کے ذریعہ جلوس نکالنے کے ارادہ کو مشتہر کیا گیا۔ چست اور چاق و چوبند نوجوانوں کی ایک رضا کار جماعت بنائی گئی اور جگہ جگہ نعتیں پڑھنے کاانتظام کیا گیا۔ روزنامہ’مشرق‘ مورخہ26 جنوری 1984بمطابق12ربیع الاول 1440ھ میں مصطفی کمال پاشا صحافی’لاہور میں 12ربیع الاول کا جلوس کیسے شروع ہوا؟عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ’آزادی سے پیشتر ہندوستان میں حکومت ِبرطانیہ25 دسمبر کو حضرت عیسی علیہ السلام کے یوم پیدائش کوبڑے تزک و احتشام کیساتھ منانے کا انتظام کرتی اور اس روز کی فوقیت کو دوبالا کرنے کیلئے اس دن کو ‘بڑے دن’ کے نام سے منسوب کیا گیا … تاکہ دنیا میں ثابت کیا جاسکے کہ حضرت مسیح ہی نجات دہندہ تھے۔


 *🌼پـــہلے تـــھی 12 وفـــات:* 

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم12ربیع الاول کو اس دنیا میں تشریف لائے اور اسی روز وفات پائی۔ کچھ لوگ اس یومِ مقدس کو 12 وفات کے نام سے پکارتے ہیں۔ آزادی سے پیشتر اس یوم کے تقدس کے پیش نظر مسلمانانِ لاہور نے اظہارِ مسرت و عقیدت کے طور پر جلوس نکالنے کا فیصلہ کیا… ان دنوں کانگریس اپنے اجتماع موری دروازہ میں منعقد کیا کرتی تھی اور اس کے مقابلہ میں مسلمان اپنے اجتماع موچی دروازہ لاہورمیں منعقد کرتے تھے، لہٰذا موچی دروازہ کو سیاسی مرکز ہونے کے علاوہ سب سے پہلے عیدمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلوس نکالنے کا شرف بھی حاصل ہے۔ علمی طور پر اس کی قیادت انجمن فرزندانِ توحید موچی گیٹ کے سپرد ہوئی۔ جس میں حافظ معراج دین… وغیرہ شامل تھے۔انجمن کی زیر قیادت جلوس کو دلہن کی طرح سجایا جاتا۔ جلوس میں شامل نوجوانوں پرپھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتیں۔ سیاسی اور سماجی کارکنوں کے علاوہ جلوس کے آگے پہلوانوں کی ٹولی بھی شمولیت کرتی۔ روزنامہ کوہستان نے انجمن فرزندانِ توحید کے عہد یداران کی تصاویر اخبارِ مذکور میں شائع کیں اور روزنامہ مشرق نے اس لائسنس کا عکس بھی شامل اشاعت کیا جو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ے جلوس کی اجازت کیلئے حکومت ِبرطانیہ سے حاصل کیاگیاتھا۔علاوہ ازیں مذکورہ اخبارات کی فوٹوا سٹیٹ تحریریں ماہنامہ ‘حرمین’ جامعہ علوم اثریہ، جہلم کے ادارہ کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔بدعت ِعید میلاد سے متعلقہ شبہات کا ازالہ اور مجوزین کے دلائل کا جائزہ عیدمیلاد کے بدعت ہونے میں کوئی شک تو باقی نہیں رہ جاتا لیکن اس کے باوجود بعض علما اسے کسی نہ کسی طرح شرعی لبادہ پہنانا چاہتے ہیں خواہ اس کیلئے انہیں قرآنی آیات میں کھینچا تانی کرنا پڑے یاکفارابولہب وغیرہ کے عمل سے استدلال کرنا پڑے لیکن حق بہرحال حق ہے جوباطل کی ملمع سازیوں کے باوجود آخر کار نکھر ہی آتا ہے۔

🤲اللہ پاک امت مسلمہ کو دین کی سمجھ عطا فرمائیں اور بدعات،خرافات،منکرات اور لایعنی کاموں لغو حدیث کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیں اور حقیقی معنوں میں عاشقِ رسول ﷺ‎ بنا کر اتباعِ رسول اللہ ﷺ‎ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین ثم آمین یا رب العالمین

 *✍مـــحـــمدنـــظیم مـــعاویـــہ عـــفی عـــنہ*

Comments