السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ 
امید ہے گروپ کے تمام احباب ان شاء اللہ خیر و عافیت سے ہوں گے کچھ دنوں سے واٹس ایپ وغیرہ پر چمڑے کی جیکٹ،جوتوں اور موزوؤں کے متعلق مختلف سوالات موصول ہوئے ان تمام احباب کو مناسب جوابات بحوالہ پرسنل میں بھیج دیے گئے ہیں اب مناسب سمجھا کہ اس اہم مسئلہ پر تفصیلاََ گروپ میں بھی ایک تحریر لکھ کر ان تمام مسائل کو کھل کر بیان کیا جائے۔ 
دور حاضر میں دین کی محنت کی وجہ سے رفتہ رفتہ کھانے پینے ، لگانے ، پہننے اور استعمال کی اکثر مصنوعات میں حرام کی آمیزش کا انکشاف ہو رہا ہے ۔کھانے پینے کی اشیا کے بعد اب خنزیر کی کھال سے تیار شدہ جوتوں کی نشانیاں بھی منظر عام پر آرہی ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ برصغیر ہند،پاک کے مسلمانوں کیساتھ گذشتہ برسوں سے یہ کھیل جاری ہے ۔امت کی فکری ، لاپروائی اور عدمِ دلچسپی سے بھر پور انداز میں فائدہ اٹھا یا جارہا ہے ،فوڈ انڈسٹری کا حال تو اس دورِ جدید میں کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ کن کن طریقوں سے مسلمانوں کو حرام کھلایا جارہا ہے ، امت کی روحانی طاقت کو برباد کرنے کیلئے کون سا ہتھکنڈا ہے جسے نہ اپنایا گیا ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسلامی ممالک میں پیدا ہونے والے بچے کے منہ میں رکھی جانے والی غذا سے لے کر قریب المرگ بوڑھے کی زبان پر رکھی جانے والی دوا تک کوئی چیز حرام کی آمیزش سے پاک نہیں ! کھانے پینے ، لگانے ، پہننے اور استعمال کی دیگر تمام مصنوعات میں حرام کی آمیزش کا بھانڈا پھوٹ ہو رہا ہے ۔صاحب ایمان شخص کیلئے حلال یا حرام کی بات کریں تو اس کا تعلق صرف گوشت یا غذائی اشیاسے نہیں ہوتا بلکہ1857کے دوران خنزیر کی چربی کے بنے ہوئے کارتوسوں سے شروع ہونے والے حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا دائرہ کار کئی شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے دفاع میں حلال کی ایک پوری صنعت وجود میں آئی ہے جس میں غذائی اشیا، فارماسیوٹیکلز، صحت افزا مصنوعات، ٹوائلٹریز، کاسمیٹکس اور ملبوسات وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح کچھ خدمات مثلاً غذائی اشیاکی لاجسٹک، پیکیجنگ اسی طرح غیر سودی بینکنگ، غیر شرعی امور سے پاک پرنٹنگ میڈیا، سفر اور سیر و سیاحت بھی حلال انڈسٹری کے زمرے میں آنے لگی ہیں۔اگرچہ عرف میں ان سب کو حلال انڈسٹری کے شعبے کہا جاتا ہے لیکن ان میں شرعی اعتبار سے اصطلاحات کی اپنی تقسیم ہے۔ مثلاً داخلی طور پر استعمال کی جانے والی اشیایعنی غذائی اشیاکیلئے حلال یا حرام کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جبکہ خارجی استعمال مثلاً ملبوسات وغیرہ کیلئے نجس، ناپاک اور پاک اور اوپر جن خدمات کی طرف اشارہ کیا گیا ان کو جائز یا ناجائز سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی چیز پاک ہو تو ضروری نہیں کہ وہ حلال بھی ہو۔ اہل علم کے نزدیک ملبوسات کے حوالے سے شریعت کے اصولوں میں سے ایک اصول یہ ہے کہ مسلمان ایسا لباس استعمال کرے جو پاک ہو، اس اصول پر عمل کے سلسلہ میں یہ ضروری ہے کہ انسانی بدن سے جو چیز چھوتی یا مس touch کرتی ہو وہ کوئی نجاست یا نجاست سے ملی چیز نہ ہو جیسے خنزیر کا چمڑا یا دیگر مصنوعات جو ناپاک رنگ یا ناپاک پالش کیساتھ ملوث ہوں۔ اس تناظر میں چمڑے کی مصنوعات بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ چمڑے سے مختلف قسم کی بہت سی ایسی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں جنھیں ہم روزمرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں جیسے جوتا، بیلٹ، بٹوہ، ہینڈ بیگ، جیکٹ، لباس، صوفہ، کرسی اور گاڑیوں کی سیٹوں کا غلاف وغیرہ۔ اگرایسے ناپاک چمڑے کی مصنوعات یا ملبوسات کے استعمال کیساتھ نماز پڑھی جائے تو وہ ادا نہیں ہوتی۔ نماز کے علاوہ بھی ناپاک چمڑے کا استعمال مسلمان کیلئے جائز نہیں ہے۔
 *👞   خنزیر کی کھال کے جوتے:*
جوتوں کے حوالہ سے ایک رپورٹ میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ملک بھرکی نمایاں مارکیٹوں کے نامور برانڈزمیں خنزیر کی کھال سے تیار شدہ جوتے بلا خوف وخطر فروخت کئے جارہے ہیں ، اس فکر سے آزاد ہو کر کہ کوئی مسلمان وضو ، غسل کرنے کے بعد پیروں کو گندگی سے بچانے کیلئے اس جوتے کو پہنے گا جبکہ خنزیر کے چمڑے سے بنا یہ جوتا اس کے جسم سے مسلسل مس ہوتا رہے گا تو اس کے جسم کی پاکیزگی ، طہارت اور عبادت اپنے آپ میں ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن جائے گی۔ اس ذمہ داری سے دستبردار ہو کر یہ گھناونا عمل جاری ہے کہ کوئی مسلمان اس ناپاک چمڑے سے بنے جوتوں کو مسجد اور دوسری عبادت گاہوں میں لے جائے گا تو کیا اس سے مسجد کا تقدس پامال نہیں ہوگا؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جنھوں نے اس تحریر کو آپ کے سامنے پیش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
⬅️   خنزیر کی کھال سے تیار شدہ جوتوں کی نشانی یہ ہے ان جوتوں کے تلووں اور اطراف میں تین ، تین ڈاٹس ہوتے ہیں۔
اسی مقصد کیلئے شاید کہ آپ کو معلوم بھی ہو کہ آج سے تقریباََ 5 سال پہلے مسلسل محنت اور معلومات اکھٹی کرنے کے بعد ایک نجی ٹی وی چینل کا پروگرام بھی نشر ہوا تھا،اس اسکینڈل کو بے نقاب کرنے کی محرک ایک ای میل تھس جسے ایک برطانوی خاتون نے اس پروگرام کے اینکر کو بھیجا تھا۔ ای میل میں انہوں نے کہا کہ اس سے گزرستہ سال گزشتہ سال جب وہ اپنے وطن آئیں اور انہوں نے وہاں کے تقریباً تمام مارکیٹوں میں خنزیر کے چمڑے سے بنے ہوئے جوتے بکثرت دیکھے تو اسے حیرت کے شدید جھٹکے لگے کہ اسلامی معاشرے میں بھی ایسے ناپاک جوتے بلا روک ٹوک فروخت کئے جا رہے ہیں! اس کیساتھ ہی اس خاتون نے سور کی کھال کی کچھ موٹی موٹی نشانیوں کو بھی واضح کیا تھا۔ اس میل کے موصول ہوتے ہیں انہوں نے اس منافع بخش اور بظاہر بے عیب مگر مکروہ کاروبار کے چہرے سے نقاب سرکانے کیلئے کچھ اس انداز سے کام شروع کیا تھا۔ابتدائی تحقیق اور ریسرچ کے بعد جن علامات کا علم ہوا تھا ان کے مدِ نظر دو دن کی مسلسل محنت سے مختلف مارکیٹوں سے سور کی کھال سے مماثلت رکھنے والے مشکوک جوتے خریدے تھے، اور اس کے بعد اسے ٹیسٹ کیلئے لیدر ریسرچ سینٹر میں پیش کئے تھے، ٹیسٹ کیلئے درکار دنوں کے انتظار کے بعد آخر کار رپورٹ آگئی ہی تھی، لیکن یہ جان کر بڑی مایوسی ہوئی تھی کہ یہ سور کی کھال کے جوتے نہیں بلکہ سور کی کھال سے مماثلت اورمشابہت رکھنے والے جوتے تھے۔لیکن ان کی خبر اپنی جگہ پکی تھی کہ ایسے ناپاک جوتے بازاروں میں فروخت ہو رہے ہیں،اسی لئے انہوں نے ہمت نہ ہاری تھی اور لیدر کے ایک ماہر کی خدمات حاصل کرنے کے بعد اس کی نشاندہی پر کچھ مزید جوتے خریدے تھے۔
 *🔬   مصدقہ رپورٹ نے کھولی پول:* 
سور کی کھال کے جوتے بنانے والوں میں کچھ بڑے برانڈز اور ان کے بااثر مالکان بھی شامل تھے، اسی لئے لیدر کے اس ماہر کی زندگی اور ملازمت کو لاحق ممکنہ خطرات کے پیش ِ نظر اس کی شناخت کو پوشیدہ رکھا گیا تھا ، چمڑے کے اس ماہر کیلئے بھی ہزاروں شوز اسٹور کے لاکھوں جوتوں میں سے سور کی کھال کے جوتے تلاش کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا ، کیونکہ کوئی بھی دکاندار جوتے کو ا±دھیڑنے یا پھر ضرورت سے زائد پرکھنے کی اجازت ہر گز نہیں دیتا تھا۔سو، پورے دن کی عرق ریزی کے بعد بالآخر شہر کے مشہور اور مہنگے برانڈ کا ایک جوتا ہاتھ لگا جس پر شک گزرا تھا کہ یہ سور کی کھال کا بنا ہوا جوتا ہو سکتا ہے، اس ٹیم نے فوراً اس جوتے کو خرید لیا ، مزید تحقیق کیلئے ٹیم پھر لیدر ریسرچ سینٹر پہنچی ، ضروری کاروائی اور مقررہ فیس کی ادائیگی کے بعد یہ جوتا بھی ان کے حوالے کر دیا ، چند روز بعد بالآخر لیدر ریسرچ سینٹر نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ اس جوتے میں سور کی کھال یعنی پگ لیدر کو استعمال کیا گیا ہے۔
PCSIR کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کی مصدقہ رپورٹ آنے کے بعد انہیں کچھ حوصلہ نصیب ہوا کہ ان کی محنت رائیگاں نہیں گئی۔اس جرم کو بے نقاب کرنے کیلئے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے کے جوتے مختلف اوقات میں خریدے گئے اور انہیں ٹیسٹ کیلئے لیدر ریسرچ سینٹر بجھوایاگیا، اور یہاں بھی الگ سے ہزاروں روپے کی فیس ادا کی گئی ، جبکہ اس تحقیق میں چار بڑی دکانوں کو شامل کیا گیا کہ ان سے ایسے جوتے خریدے گئے ۔عجیب بات تو یہ ہے کہ ان چار دکانوں میں سے دو کانداروں نے حلفاً کہا کہ ہم جوتے در آمد کرتے ہیں ہمیں قطعاً اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان جوتوں میں سور کی کھال استعمال کی جا رہی ہے ، جبکہ سور والے جوتوں کا تمام اسٹاک تلف کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا، اسی لئے پروگرام میں ان  دکانداروں کی شناخت کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ دوسری جانب دو دکانوں کے مالکان نہ اپنی غلطی ماننے کو تیار تھے اور نہ ہی سور کی کھال یعنی پگ لیدر کے بنے ہوئے جوتوں کی فروخت کو روکنے پرآمادہ تھے ، لہذا ان کو کیمرے کی آنکھ سے دکھا یا گیا تھا۔ اور رپورٹ کے آخر میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر قانون نافذ کرنے والا کوئی ادارہ ،کوئی تحقیقاتی کمیشن یا پھر عدالت کہے تو ہم ان دکانوں کے نام، وہاں سے خریدے گئے جوتوں کے سمپل اور لیدر ریسرچ سینٹر کی رپوٹ تحقیقات کیلئے پیش کرنے 
کو تیار تھے۔ تحقیق کے مطابق اب بھی مختلف برانڈز میں سور کے چمڑے کے بنے جوتے اور جیکٹ وغیرہ بہت زیادہ درامد وبرامند کیے جا رہے ہیں۔
 *🎤   نوٹ:* 
واضح رہے یہ تحقیق میری ذاتی نہیں ہمارے گروپ میں شامل ایک میڈیا ریسرچ اینکر کی ہے جنہوں نے ایک سوال کرنے پر یہ رپورٹ مجھے واٹس ایپ پر بھیجی تھی۔
 *👞   کیا ہے خنزیری جوتے کی پہچان ؟*
خنزیر کی کھال سے تیار شدہ جوتوں کی نشانی یہ ہے کہ اس جوتوں کے تلووں اور اطراف میں تین ، تین ڈاٹس ،یعنی 3باریک سوراخ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ہوتے ہیں ، اور یہ باریک سوراخ اس بال کی نشاندہی کرتے ہیں جو سوّر کی کھال موجود ہوتے ہیں ، تو اس کھا ل کو مختلف مراحل سے گزار کر جب اس کا چمڑہ تیار کیا جاتا ہے تو اس پراسس کے دوران وہ بال تو نکل جاتے ہیں لیکن نشان چھوڑ جاتے ہیں اور یہی واضح نشانی ہے سور کے کھال کی! تو آپ حضرات بھی بیش قیمت جوتے پسند کرتے وقت خوب جانج پھٹک اور تسلی کرنے کے بعد ہی خریدیں کہ اس میں تو کہیں وہ باریک ڈاٹس نمایاں نہیں؟
 *🪝   دباغت سے پاک نہیں ہوتی:*
شہید اسلام حضرت مولانا یوسف لدھیانوی صاحب رحمة اللہ علیہ سے جب پوچھا گیا کہ حرام جانوروں کی کھالوں کی ٹوپیاں، شیر، چیتا، ریچھ، لومڑی، گیدڑ وغیرہ کی آج کل بازاروں میں فروخت ہو رہی ہیں، ان کا اوڑھنا یا اسے پہن کر نماز ادا کرنا درست ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ حدیث میں ہے کہ ہر جانور کی کھال دباغت سے پاک ہوجاتی ہے، اس لئے دباغت کے بعد ان جانوروں کی کھالوں کی ٹوپیاں پہننا، ان میں نماز پڑھنا اور ان کی خرید و فروخت کرنا جائز ہے، البتہ خنزیر چونکہ نجس العین ہے، اس لئے اس کی کھال دباغت سے پاک نہیں ہوتی۔اہل علم کے نزدیک،
⬅️   خنزیر اور انسان کی کھال ہر حال میں حرام ہے۔
⬅️   شرعی طور پر مذبوح حلال جانور کی کھال سے بننے والی مصنوعات کا استعمال بلا شبہ جائز ہے۔
 ⬅️   حرام یا مردار جانور کی کھال کی اگر دباغت tanning ہو جائے تو وہ پاک ہو جاتی ہے اس سے بنی ہوئی مصنوعات کا خارجی استعمال جائز ہے۔ دباغت سے مراد کھال کی آلائش، رطوبت اور بدبو وغیرہ کو نمک، کیمیکل یا کسی دوسری چیز سے زائل کرنا ہے۔ البتہ خنزیر کی کھال دباغت سے پاک نہیں ہوتی۔
⬅️   اگر حرام جانور کو شرعی طور پر ذبح کردیا جائے تو اس کا چمڑا خارجی استعمال میں لانا جائز ہے۔ کیونکہ ذبح سے اس کا چمڑا خارجی استعمال کیلئے جائز ہو جاتا ہے البتہ خنزیر کی کھال ذبح سے بھی پاک نہیں ہوتی۔ واضح رہے کہ عملی طور پر کسی حرام جانور کے ذبح کی نوبت نہیں آتی کیونکہ جب بھی چمڑے سے مصنوعات تیار ہوتی ہیں تو پروسیسنگ کے دوران اس کی دباغت ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ چمڑا پاک ہو جاتا ہے۔ لہذا خنزیر کے علاوہ دیگر حرام جانوروں کے چمڑے سے بنی مصنوعا ت کا استعمال بغیر ذبح بھی جائز ہے کیونکہ ایسے چمڑے کو بغیر دباغت دئے مصنوعات کی شکل میں لانا ممکن ہی نہیں۔
 *🧢   نماز کے علاوہ بھی ناپاک چمڑے کا استعمال مسلمان کیلئے جائز نہیں ہے :*
ایسی کھال جس کی دباغت ممکن نہ ہو تو وہ دباغت سے پاک نہیں ہو گی مثلاً خون والے سانپ کی جلد اور چوہے کی کھال وغیرہ البتہ سانپ کی جلد کا بیرونی چھلکا اور ایسے سانپ کی جلد جس میں خون نہ ہو وہ پاک ہے اور خارجی استعمال میں لائی جا سکتی ہے۔پاک چیز ضروری نہیں کہ حلال بھی ہو۔آخر میں یہ بات مد نظر رہے کہ اگر کوئی چیز پاک ہو تو ضروری نہیں کہ وہ حلال بھی ہو۔ مثلاً مٹی پاک ہے لیکن حلال نہیں۔ ملبوسات یا چمڑے کی مصنوعات میں صرف پاک ہونا کافی ہے جس کے نتیجے میں ان کا بیرونی استعمالExternal Useتو جائز ہو گا لیکن ضروری نہیں کہ ان کا داخلی و اندرونی استعمال بھی جائز ہو بلکہ داخلی استعمال کیلئے حلال کی کچھ مزید شرائط کی پابندی کرنی پڑے گی۔ مثلاً چمڑا حلال جانور کا ہو اور وہ جانور شرعی طور پر ذبح شدہ ہو تو ایسا چمڑا پاک ہونے کے ساتھ ساتھ حلال بھی ہے اور داخلی استعمال میں بھی لایا جا سکتا ہے اس کے برخلاف جو چمڑا شرعی طور پر مذبوح حلال جانور کا نہ ہو تو دباغت یا مصنوعات کی شکل میں آنے کے بعد وہ پاک تو ہے اور اس کا خارجی استعمال جائز ہے لیکن حلال نہیں یعنی داخلی استعمال اس کا جائز نہیں۔
 *اب آخر میں وہ رپورٹ منسلک کی جاتی ہے جو ہم کو موصول ہوئی۔👇🏻👇🏻* 
I find it interesting that the ammunition for the new Pattern 1853 Enfield Rifle was the final spark for the Indian Mutiny of 1857. The rifles had a tighter fit than the earlier muskets and used paper cartridges that came pre-greased but, to load the rifle, the sepoys had to bite the cartridge open to release the powder. The grease used on these cartridges included tallow derived from beef that was offensive to Hindus, or lard derived from pork that was offensive to Muslims. One of the East India Company’s officials pointed out the difficulties this could cause: “… unless it be proven that the grease employed in these cartridges is not of a nature to offend or interfere with the prejudices of caste, it will be expedient not to issue them for test to Native corps.” In August 1856, however, greased cartridge production started in Fort William in Calcutta, following a British design using tallow. By January 1857 rumours were circulating that the Enfield cartridges were greased with animal fat. Company officers became aware of the gossip with reports of a quarrel between a high-caste sepoy and a low-caste labourer at Dum Dum. Although at this time such cartridges had been issued only at Meerut and not at Dum Dum the labourer taunted the sepoy by saying that by biting the cartridge he had himself lost caste. Rumours abounded that the British sought to destroy the Indian people’s religions and by forcing the native soldiers to break their sacred code would have certainly added to this rumour … as it apparently did. Even though the Company quickly reversed the effects of this policy in hopes that the Indians would be quelled, this policy was unsuccessful as was a statement that the cartridges were to be free from grease allowing the sepoys to grease them using whatever mixture ‘they may prefer’. A modification was made to the drill for loading so that the cartridge was torn with the hands and not bitten, but this merely caused many sepoys to be convinced that the rumours were true and that their fears were justified. Rumours and disbelief led to a sepoy shooting at a Sergeant Major and an officer on 29 March 1857. And there was the spark that eventually led to the Indian Mutiny.
I find it interesting that the ammunition for the new Pattern 1853 Enfield Rifle was the final spark for the Indian Mutiny of 1857. The rifles had a tighter fit than the earlier muskets and used paper cartridges that came pre-greased but, to load the rifle, the sepoys had to bite the cartridge open to release the powder. The grease used on these cartridges included tallow derived from beef that was offensive to Hindus, or lard derived from pork that was offensive to Muslims. One of the East India Company’s officials pointed out the difficulties this could cause: “… unless it be proven that the grease employed in these cartridges is not of a nature to offend or interfere with the prejudices of caste, it will be expedient not to issue them for test to Native corps.” In August 1856, however, greased cartridge production started in Fort William in Calcutta, following a British design using tallow. By January 1857 rumours were circulating that the Enfield cartridges were greased with animal fat. Company officers became aware of the gossip with reports of a quarrel between a high-caste sepoy and a low-caste labourer at Dum Dum. Although at this time such cartridges had been issued only at Meerut and not at Dum Dum the labourer taunted the sepoy by saying that by biting the cartridge he had himself lost caste. Rumours abounded that the British sought to destroy the Indian people’s religions and by forcing the native soldiers to break their sacred code would have certainly added to this rumour … as it apparently did. Even though the Company quickly reversed the effects of this policy in hopes that the Indians would be quelled, this policy was unsuccessful as was a statement that the cartridges were to be free from grease allowing the sepoys to grease them using whatever mixture ‘they may prefer’. A modification was made to the drill for loading so that the cartridge was torn with the hands and not bitten, but this merely caused many sepoys to be convinced that the rumours were true and that their fears were justified. Rumours and disbelief led to a sepoy shooting at a Sergeant Major and an officer on 29 March 1857. And there was the spark that eventually led to the Indian Mutiny.
I regale you with this great historic British faux pas religious because I wonder if the ultra conservative IS jihadis know how many items in daily use have a pork derivative – or two – in them? If they clean their teeth the paste probably has bone fat glycerine in it; if they smoke then haemoglobin from pig blood is used in the filters; if they use paper – to write on or in the toilet – then that has bone gelatine to improve stiffness and to reduce moisture. Should they use bullets then bone gelatine is used to help transport the gunpowder or cordite into the casing; fatty acids are used in candles, gelatine is used as a clarifying agent in beer and protein from pig hair is used to soften dough in making bread. As these brave young men behead Syrian soldiers earning virgins in heaven, are they aware of the widespread use of a dead pig’s bones, internal organs, blood, fat, skin and other remains in items readily available in supermarkets and stalls – as well as the flash hotels that the use for ‘R&R’?
Pig fat is in chewing gum and used to make automobile paint, and which sensible jihadi does not have an off road vehicle? Even ice cream uses gelatine derived from a dead and pig calcium from the bones is used to fortify yogurt. Makes one think, does it not?
What is the punishment for a good Moslem consuming pig?
As many of you know, there is no “PIG SKIN LINING” signs at Cotton On.
So what is the conclusion? We are not sure ourselves. If you don’t believe me, visit any Cotton On outlets near you  Of course not ALL the shoes have this 3 dots..
 *✍محمدنظیم معاویہ عفی عنہ*
https://chat.whatsapp.com/ECmtihTZZsMKYLJUY5pVBp

Comments