🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 *ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* 

━━━━❰・ *سلسلہ درسِ حدیث*   ・❱━━━━━ 

                     *❖حدیث نمبر ٢❖* 

 *✍مرتب:* 

                  *محمدنظیم معاویہ عفی عنہ*

عن أنسؓ قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن من أشراط الساعة أن يرفع العلم ويكثر الجهل ويكثر الزنا ويكثر شرب الخمر ويقل الرجال وتكثر النساء حتى يكون لخمسين امرأة القيم الواحد و في رواية يقل العلم ويظهر الجهل۔

 متفق عليه

"حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ " بلاشبہ قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا (یعنی حقیقی عالم اس دنیا سے اٹھ جائیں گے یا یہ کہ علماء کی قدر و منزلت اٹھ جائے گی ) جہالت کی زیادتی ہوجائے گی (یعنی ہر طرف جاہل وناداں ہی نظر آنے لگیں گے جو اگرچہ علم ودانش کا دعوی کریں گے مگر حقیقت میں علم ودانش سے کوسوں دور ہوں گے ) زنا کثرت سے ہونے لگے گا (کیونکہ لوگوں میں شرم وحیا اور غیرت کم ہو جائے گی ) شراب بہت پی جائے گی (اور پھر شراب خوری کی زیادتی، آبادیوں اور لوگوں میں فتنہ وفساد پھیلنے کا باعث ہوگی ) مردوں کی تعداد کم ہو جائے گی ( جن کے دم سے عالم کانظام استوار و مستحکم ہوتا ہے ) عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی ( کہ جن کے ذریعہ ضروری اور اہم امور سر انجام تو کیا پاتے البتہ ان کی وجہ سے تفکرات اور پریشانیوں اور مال ودولت حاصل کرنے کا غم ضرور برداشت کرنا پڑتا ہے ) یہاں تک کہ پچاس عورتوں کی خبر گیری کرنے والا ایک مرد ہوگا ( اس سے یہ مراد نہیں کہ ایک ایک مرد کی پچاس بیویاں ہوگی بلکہ یہ مراد ہے کہ ایک ایک مرد پر پچاس پچاس عورتوں کی کفالت وخبر گیری کا بوجھ ہوگا جن میں مائیں ، خالائیں ، دادیاں ، بہنیں ، پھوپھیاں ، وغیرہ ہوں گی ۔ "

اور ایک روایت میں ہے (یرفع العلم ویکثر الجہل ) یعنی علم اٹھالیا جائے گا اور جہل کی زیادتی ہوگی، کے بجائے ) یوں ہے کہ علم کم ہو جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی۔

اسی طرح مسلم شریف کی روایت ہے "قال رسول النبي صلى الله عليه وسلم إن بين يدي الساعة كذابين فاحذروهم"

 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۔ " قیامت کے آنے سے پہلے جھوٹوں کی پیدائش بڑھ جائے گی لہذا ان سے بچتے رہنا ۔"

 *⭕تنبیہ:* 

یہاں "جھوٹوں" سے مراد یا تو وہ لوگ ہیں جو جھوٹی حدیثیں گھڑیں گے، یا وہ لوگ مراد ہیں جو نبوت کا جھوٹا دعوی کریں گے اور زیادہ تر وہ لوگ مراد ہیں جو بدعتیں رائج کریں گے اپنے غلط سلط عقائد وخیالات اور اپنی جھوٹی اغراض وخواہشات کو صحیح اور جائز ثابت کرنے کے لئے ان کی نسبت صحابہ کرامؓ اور اگلے بزرگوںؒ کی طرف کریں گے ۔

ابن مالک رحمہ اللہ تعالی علیہ نے شرح مشارق میں لکھا ہے فاحذروہم کا جملہ صحیح مسلم میں مذکور نہیں ہے البتہ اس کے علاوہ دوسری روایتوں میں یہ جملہ یقینًا موجود ہے، 

 *▪️مشکوۃ شریف جلد پنجم* 

 *▪️قیامت کی علامتوں کا بیان حدیث 2*

https://chat.whatsapp.com/ECmtihTZZsMKYLJUY5pVBp

Comments