*⏮️بٹ کوئن کا شرعی حکم⏭️*
*الحمدللہ، والصلاة والسلام على رسول اللہﷺ،أما بعد!*
واٹس ایپ پر ایک میسج موصول ہوا جس میں ایک سوال پوچھا گیا ہے سوال یہ لکھا تھا کہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کیا کیسی آن لائن کاروبار میں جیسا کہ بٹ کوئن یا بینانس میں پیسے جمع کرنا یا اس میں کاروبار کرنا کیسا ہے؟ شریعت کی نظر میں اس کی وضاحت فرمائیں۔
سب سے پہلے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ بٹ کوئن کیا بلا ہے؟
*🌻 بِٹ کوئن کیا ہے؟*
بٹ کوئن (انگریزی: bitcoin) ایک ڈیجیٹل کرنسی اور پیئر ٹو پیئر پیمنٹ نیٹ ورک ہے جو آزاد مصدر دستور پر مبنی ہے اور عوامی نوشتہ سودا کا استعمال کرتی ہے۔ بٹ کوئن کمانے یا حاصل کرنے میں کسی شخص یا کسی بینک کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ مکمل آزاد کرنسی ہے، جس کو ہم اپنے کمپیوٹر کی مدد سے بھی خود بنا سکتے ہیں۔
بٹ کوئن کرنسی کا دیگر رائج کرنسیوں مثلا ڈالر اور یورو سے موازنہ کیا جاسکتا ہے، لیکن رائج کرنسیوں اور بٹ کوئن میں کچھ فرق ہے۔
سب سے اہم فرق یہ ہے کہ بٹ کوئن مکمل طور پر ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کا وجود محض انٹرنیٹ تک محدود ہے، خارجی طور پر اس کا کوئی جسمانی وجود نہیں۔ اسی طرح بٹ کوئن کرنسی کے پیچھے کوئی طاقتور مرکزی ادارہ مثلا مرکزی بینک نہیں ہے اور نہ ہی کسی حکومت نے اب تک اسے جائز کرنسی قرار دیا ہے، اسی وجہ سے دنیا کی کئی حکومتوں نے اسے غیر مرکزی کرنسی (decentralized currency) قرار دیا ہے، کیونکہ اس کرنسی کو ایک شخص براہ راست دوسرے شخص کو منتقل کر سکتا ہے، اس کے لیے کسی بینک یا حکومتی ادارہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم انٹرنیٹ کے ذریعہ بٹ کوئن کو دیگر رائج کرنسیوں کی طرح ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
*☀️بٹ کوئن کا آغاز:*
بٹ کوئن کا آغاز 2009ء میں کازبنام ستوشی ناکاماتو نے کیا۔ اسے کرپٹوکرنسی کہتے ہیں کیونکہ یہ پبلک کی کرپٹوگرافی کے اصولوں پر مبنی ہے۔
یہ کرنسی حسابی عمل لوگرتھم کی بنیاد پر کام کرتی ہے،جس کے لیے کمپیوٹر کو انٹر نیٹ سے منسلک کر کے، کمپیوٹر کے پروسیسر سے کام لیا جاتا ہے۔ جس کمپیوٹر کا پروسیسر جتنا طاقتور ہوتا ہے، اتنی جلد وہ حسابی عمل لوگرتھم کا سوال حل کرکے بٹ کوائن بناتا ہے۔
اب اس کے جائز یا نا جائز ہونے کی طرف بڑھتے ہیں۔
بٹ کوئین محض فرضی کرنسی ہے، اس میں حقیقی کرنسی کے بنیادی اوصاف وشرائط بالکل نہیں پائے جاتے اور یہ محض ایک دھوکہ ہے، اس میں حقیقت میں کوئی مبیع وغیرہ نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کاروبار میں بیع کے جواز کی شرعی شرطیں پائی جاتی ہیں، بلکہ در حقیقت یہ سود اور جوے کی شکل ہے، اس لئے بٹ کوئن کی خرید و فروخت کی شکل میں انٹرنیٹ پر چلنے والا کاروبار شرعاًحلال و جائز نہیں ہے؛ لہذا بٹ کوئن یا کسی بھی ڈیجیٹل کرنسی کے نام نہاد کاروبار میں پیسے نہ لگائے جائیں۔
*وأحل اللہ البیع وحرم الربا (البقرة: 275)*
*ترجمہ:*
اللہ تعالی نے خرید وفروخت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے
*یٰأیھا الذین آمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون (المائدة،90)*
*ترجمہ:*
اے ایمان والوں یقیناً شراب،جوا،بتوں کے تھان،جوے کے تیر یہ سب ناپاک شیطانی کا ہیں۔
*وقال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم: إن اللہ حرم علی أمتي الخمر والمیسر*
*(مسند امام احمد،ج2: ص351، رقم الحدیث:6511)*
*ترجمہ:*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اللہ تعالی نے میری امت پر شراب اور جوا حرام قرار دیا ہے۔
درجہ بالا تفصیل سے اور آیاتِ اور حدیثِ نبوی سے معلوم ہوا کہ یہ ناجائز اور حرام ہے اس کی خرید و فروخت سے حتی الامکان بچنا چاہیئے۔
اب ذیل میں چند جید و معروف دارالافتاؤں کے فتاوی جات ملاحظہ فرمائیں۔
*⤵️دارالافتاء،دارالعلوم دیوبند:*
آج کل دنیا میں جو مختلف کرنسیاں رائج ہیں، وہ فی نفسہ مال نہیں ہیں، وہ محض کاغذ کا ٹکڑا ہیں، ان میں جو مالیت یا عرفی ثمنیت پائی جاتی ہے ، وہ دو وجہ سے ہے؛ ایک تو اس وجہ سے کہ ان کے پیچھے ملک کی اقتصادی چیزیں ہوتی ہیں ؛ اسی لیے ملک کی اقتصادی ترقی اور انحطاط کا کرنسی کی ویلیو پر اثر پڑتا ہے ، یعنی: اقتصاد ہی کی وجہ سے ملک کی کرنسی کی ویلیو گھٹتی بڑھتی ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ہر ملک عوام کے لیے اپنی کرنسی کا ضامن وذمہ دار ہوتا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی ملک اپنی کوئی کرنسی بند کرتا ہے تو کرنسی محض کاغذ کا نوٹ بن کر رہ جاتی ہے اور اس کی کوئی ویلیو یا حیثیت باقی نہیں رہتی۔ اب سوال یہ ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی کے پیچھے کیا چیز ہے جس کی وجہ سے اس کی ویلیو متعین ہوتی ہے اور اس کی ترقی اور انحطاط سے کرنسی کی ویلیو گھٹتی بڑھتی ہے؟ اسی طرح اس کرنسی کا ضامن وذمہ دار کون ہے؟ نیز کرنسی کی پشت پر جو چیز پائی جاتی ہے، کیا واقعی طور پر اس پر کرنسی کے ضامن کا کنٹرول ہوتا ہے یا یہ محض فرضی اور اعتباری چیز ہے؟
ڈیجیٹل کرنسی کے متعلق مختلف تحریرات پڑھی گئیں اور اس کے متعلق غور کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ڈیجیٹل کرنسی محض ایک فرضی چیز ہے اور اس کا عنوان ہاتھی کے دانت کی طرح محض دکھانے کی چیز ہے اور حقیقت میں یہ فاریکس ٹریڈنگ وغیرہ کی طرح نیٹ پر جاری سٹے بازی اور سودی کاروبار کی شکل ہے، اس میں حقیقت میں کوئی مبیع وغیرہ نہیں پائی جاتی اور نہ ہی اس کے کاروبار میں بیع کے جواز کی شرعی شرطیں پائی جاتی ہیں۔
پس خلاصہ یہ کہ بٹ کوئن یا کوئی اور ڈیجیٹل کرنسی، محض فرضی کرنسی ہے، حقیقی اور واقعی کرنسی نہیں ہے، نیزکسی بھی ڈیجیٹل کرنسی میں واقعی کرنسی کی بنیادیں صفات نہیں پائی جاتیں، نیز ڈیجیٹل کرنسی کے کاروبار میں سٹہ بازی اور سودی کاروبار کا پہلو معلوم ہوتا ہے؛ اس لیے بٹ کوئن یا کسی اور ڈیجیٹل کرنسی کی خرید اری کرنا جائز نہیں۔ اسی طرح بٹ کوئن یا کسی بھی ڈیجیٹل کرنسی کی تجارت بھی فاریکس ٹریڈنگ کی طرح ناجائز ہے؛ لہٰذا اس کاروبار سے پرہیز کیا جائے ۔
قال اللّٰہ تعالی: وأحل اللہ البیع وحرم الربا الآیة (البقرة: ۲۷۵) ، یٰأیھا الذین آمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون ( المائدة، ۹۰) ، وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ حرم علی أمتي الخمر والمیسر (المسند للإمام أحمد، ۲: ۳۵۱، رقم الحدیث: ۶۵۱۱) ، ﴿وَلَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ أي بالحرام، یعني بالربا، والقمار، والغصب والسرقة (معالم التنزیل ۲: ۵۰) ، لأن القمار من القمر الذي یزداد تارةً وینقص أخریٰ۔ وسمی القمار قمارًا؛ لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذہب مالہ إلی صاحبہ، ویجوز أن یستفید مال صاحبہ، وہو حرام بالنص (رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء، فصل في البیع، ۹: ۵۷۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،دارالعلوم دیوبند
جواب نمبر: 146744
*⤵️دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن:*
ڈیجیٹل کرنسی کا معاملہ تاحال مشتبہ ہے اورپاکستان میں اسے قانونی کرنسی کی حیثیت بھی حاصل نہیں ہے ؛ اس لیے اس کی خریدوفروخت نیز اس کے ذریعہ کاروبار کی کسی بھی شکل سے گریز کرنا چاہیے۔فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 143712200020
*⤵️دارالعلوم کراچی سے ایک مفتی صاحب کا فتوی:*
Bitcoin اور اس کی ہم مثل دیگر مجازی / غیر حسی crypto currencies اور فقہ اسلامی میں مذکور مال اور ثمن کی تفصیلات پرتفصیلی غور کرنے کے بعد Bitcoin کی شرعی حیثیت ہماری رائے درج ذیل ہے :
1۔ Bitcoin شرعی لحاظ سے ” مال” کے زمرے میں آتا ہے ۔ مال کی تعریف فقہاء نے یہ کی ہے : ” جس چیز کی طرف طبیعت ( سلیمہ) مائل ہو،ا ور بوقت حاجت اسے محفوظ کرناممکن ہو۔” دور حاضر میں ایسی بیسوں اشیاء ہیں جنہیں غیر حسی ہونے کے باوجود شرعا بھی مال تسلیم کیا گیاہے۔ Bitcoin بھی مال کی تعریف میں بیان کردہ ان دونوں شرائط پر پورا اترتا ہے :
1 ) اس وقت ہزاروں لوگ اس کے ذریعہ تبادلہ کررہے ہیں ، کرنسیوں کے باہم تبادلے کے ریٹ بتانے والی معروف ویب سائٹس Bitcoin کا ایکسچینج ریٹ بھی بتاتی ہیں ، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کا عرف عام قائم ہوچکاہے ۔
2) اسے کسی بھی برقی آلہ ( Electronic Device ) میں محفوظ کیاجاسکتا ہے ۔ اگر کوئی شخص اسے کسی آلہ میں محفوظ کرکے سالوں استعمال نہ بھی کرے تو وہ محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ضائع اسی وقت ہوں گے جب وہ برقی آلہ گم ہوجائے یا خراب ۔ ضائع ہونے کی صورت میں حکومت یا کوئی اور اتھارٹی اس کی ضامن نہیں اور اس کا بدل ادا کرنے کا پابند نہیں ۔ا س سے یہ ثابت ہوا کہ یہ بذات خودمال ہے چیک یا ڈرافٹ کی طرح کسی اور کی رسید نہیں ہے ۔ ( فقہی مقالات ، کرنسی نوٹ کی شرعی حیثیت ) میں ہے : ثمن عرفی کی ہلاکت کے وقت حکومت اس کا بدل ادا نہیں کرتی ہے ۔”
2۔ پھر یہ شرعی لحاظ سے ثمن بھی ہے ۔ شریعت میں ہر اس چیز کو ثمن رائج کہاجاتاہے جس کی لوگوں کے عرف میں مالیت ہو اور لوگ اسے بطور ذریعہ مبادلہ ( کرنسی ) کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیں۔ مختلف ادوار میں کرنسی مراحل سے گزرتی رہی ہے ان تمام اقسام کی کرنسیوں کے ساتھ تبادلے کو فقہاء نے جائز کہاہے ۔چاہے اس کی مالیت کسی حکومت کے جاری کرنے سے پیداہوئی ہو جیسے کرنسی نوٹ جسے Legal tender کہاجائے یا محض لوگوں کے استعمال سے رائج ہوئی ہو ، دوونوں صورتوں میں وہ شرعاً کرنسی کہلائے گی ۔ لہذا Bitcoin اور دیگر ڈیجیٹل Virtual کرنسیاں شرعی لحاظ سے فلوس رائجہ کے حکم میں ہیں ۔ان میں ا کثر علامات کرنسی نوٹ کی ہیں اور ان کے تمام احکام وہی ہوں گے جو کرنسی نوٹ کے ہیں ۔ جیسے : جریان الربا ، وراس مال المضاربہ ، والشرکۃ ،و السلم بہا ، والاستقراض ، ووجوب الزکاۃ ، ( البتہ ان دونوں میں فرق یہی ہے کہ کرنسی نوٹ کی ثمنیت حکومت کی مرہون منت ہوتی ہے ۔ حکومت اگر ثمنیت باطل کردے تو ان کی کوئی قیمت باقی نہیں رہے گی ۔ ( کرنسی نوٹ کی شرعی حیثیت : ص 25 ) جبکہ غیر حسی کرنسیوں کی ثمنیت باصطلاح الناس قائم ہوتی ہے ، لہذا جب تک یہ عرف قائم ہے ثمنیت بھی باقی رہے گی ، عرف ختم ہونے کے بعد یہ سلعہ کے حکم میں ہوگا ۔ فقہ میں اس کی مثال نبھر جہ یا زیوف کی ہوگی )
الدرالمختار وحاشیۃ ابن عابدین ( رد المختار ) ( 5 /233)
3۔ اس کےا ستعمال کے جواز کا مدار اس بات پر ہے کہ مستعمل کس ملک میں اسے استعمال کررہاہے ۔
الف ۔بعض ممالک نے اسے قانونی طور پر تسلیم کیاہے اورا س پر دیگر کرنسیوں کی طرح ٹیکس بھی لگایا ہے جیسے امریکا ، جرمنی ، ہالینڈاورا کثر ترقی یافتہ ممالک ۔
ب)ٰ بعض نےا س سے منع نہیں کیا اور نہ ہی اس کےا ستعمال کے ضوابط Regulations بنائے ہیں جیسے ہانگ کانگ ۔
ج) بعض ممالک ا س معاملے میں بالکل ساکت ہیں جیسے پاکستان ۔
اس قسم کے ممالک میں Bitconics کو بطور کرنسی استعمال کرنا جائز ہے ۔
جن ممالک میں ا س کو ذریعہ تبادلہ بنانا قانونی طور پر منع ہے ( ایسے ممالک بہت ہی کم ہیں ) ان میں اس حکم حاکم کی وجہ سے اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا ۔
(ا لبحرا الرائق شرح کنز الدقائق 5/277 دارالکتاب الاسلامی )
اکموسوعۃ الفقھیۃ ، مصطلح : ثمن ، 15/27)
8۔ ذھب الحنفیۃ الی ان الاموال اربعۃ انواع :
فتح القدیر للکمال ابن الھمام ( 7/12)
الدر المختار وحاشیۃ ابن عابدین ( رد المختار ) 2/300)
الدرالمختار وحاشیۃ ابن عابدین ( رد المختار ) ( 5/180)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
*⤵️دارالافتاء الاخلاص، کراچی کا فتوی:*
بٹ کوئن (bitcoin) کرنسی چونکہ کرنسی کی ایک جدید ڈیجیٹل شکل ہے، جس کی حقیقیت ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئی، نیز اس کے ریٹ میں تیزی سے تبدیلی کی وجہ سے اس میں عدم استحکام اور بہت سے ملکوں میں حکومتوں کی پشت پناہی نہ ہونے اور اس قسم کے دیگر مختلف پہلووں سے علماء کرام تحقیق کر رہے ہیں، لیکن اب تک اس پر شرعی اصولوں کا اطلاق اور اس کی شرعی حیثیت پورے طور پر واضح نہیں ہوسکی ہے، اس لئے فی الحال اس کے ذریعے معاملات میں لین دین کرنے سے احتیاط کرنی چاہئے.
و اللہ تعالٰی اعلم بالصواب
*⤵️الجامعہ البنوریہ العالمیہ کا فتوی:*
سوال میں مذکور کرنسیوں کا کوئی حسی وجود نہیں بلکہ بحض ڈیوائس میں موجودگی اور ضمان کی حد تک اس کو کرنسی خیال کیا جاتا ہے، جبکہ ملکی قانون میں اس کو مبادلہ اور خرید و فروخت کیلئے استعمال کرنا ممنوع ہے، اس لئے شرعاً یہ کرنسی کے حکم میں نہیں ہے، جس سے احتراز کرنا لازم ہے۔ واللہ اعلم بالصواب!
*⤵️سعودی عرب کے ایک مفتی صاحب کا فتوی:*
جدہ (ویب ڈیسک ) سعودی عالم دین نے کرپٹو کرنسی بٹ کوائن میں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس میں سرمایہ کاری کو حرام قرار دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دنیا کی مشہور ترین کرپٹو کرنسی بٹ کوائن نے چند ہی ماہ میں اپنی قدر میں ریکارڈ اضافے کے باعث دنیا بھر کے ماہرین
کو ورطہ حیرت میں مبتلا کیا ہے۔ بٹ کوائن کی قدر اس وقت 18 ہزار ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔جہاں بٹ کوائن نے لوگوں کی بڑی تعداد کو بے حد متاثر کیا ہے وہیں کئی لوگ اور ماہرین اس کے شدید مخالف بھی ہیں۔ ناقدین کی رائے میں بٹ کوائن محض ایک فراڈ ہے جس کے باعث لوگوں کے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری ڈوب جائے گی۔ اس حوالے سے اب ایک سعودی عالم دین کا فتوی بھی سامنے آیا ہے۔ جدہ سے تعلق رکھنے والے عالم دین عاصم الحکیم نے کرپٹو کرنسی بٹ کوائن میں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس میں سرمایہ کاری کو حرام قرار دے دیا ہے۔عاصم الحکیم کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن ایک ایسی کرنسی ہے جسے قانون کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا۔ اس کرنسی کو غیر قانونی کاموں میں باآسانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔۔ اس حوالے سے اب ایک سعودی عالم دین کا فتوی بھی سامنے آیا ہے۔ جدہ سے تعلق رکھنے والے عالم دین عاصم الحکیم نے کرپٹو کرنسی بٹ کوائن میں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے جبکہ حالیہ کچھ روز کے دوران اس کی قدر میں حیران کن اضافہ بھی قابل تشویش ہے۔ لہذا یہ کرنسی غیر قانونی ہے اور اس میں سرمایہ کاری کرنا حرام ہے۔واللہ اعلم
Comments