*🌻عید میلادالنبیﷺ‎ کی شرعی حیثیت:*

 *⏭️کیا فرماتے ہیں اہل علم:* 

تمام علما، ائمہ، محدثین، مفسرین اور مفتیان کا اس پر اتفاق ہے کہ عید میلاد النبی منانا ناجائز اور بدعت ہے۔شیخ ابن باز رحمة اللہ علیہ رقم طراز ہیں کہ عید منانا خواہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیدائش پر ہو یا کسی اور کی پیدائش پر ناجائز ہے؛ کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اِس طریقے پر عید نہیں منائی اورنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ عید منائی ہے، سلف امت کا بھی یہی فیصلہ رہا ہے اور خیر ا ن کی اتباع میں مضمر ہے۔شیخ ابن باز رحمة اللہ علیہ رقم طراز ہیں کہ عید منانا خواہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش پر ہو یا کسی اور کی پیدائش پر ناجائز ہے؛ کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس طریقے پر عید نہیں منائی اورنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ عید منائی ہے، سلف امت کا بھی یہی فیصلہ رہا ہے اور خیر ان کی اتباع میں مضمر ہے۔القول المعتمد میں علامہ شرف الدین رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: بعض امیر لوگ ہر سال محفل میلاد مناتے ہیں، اس میں بہت سے ناجائز تکلّفات پائے جاتے ہیں اور یہ محفل نفس پرستوں کی ایجاد کی ہوئی ہے جن کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز کا حکم دیا اور کس چیز سے منع کیا؟ اِس لئے یہ بدعت ہے۔جس شخص نے محفل میلاد کے جواز پر دلائل اکٹھے کیے اور بادشاہ کو اس محفل کے انعقاد کے جواز کا راستہ بتایا اس کا نام ابوالخطاب عمرو بن دحیہ تھا۔لسان المیزان،ج:۴،ص:296کے مطابق حافظ ابن حجر عسقلانی رحمة اللہ علیہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیںکہ وہ شخص ائمہ کی شان میں گستاخی کیا کرتاتھا، زبان دراز، بے وقوف اور متکبر تھا اور دینی امور میں سست اور بے پرواتھا۔فتاویٰ عبداللہ بن باز،ج:1،ص:62کی رو سے سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیںکہ میلاد منانا کسی کیلئے بھی جائز نہیں؛ اِس لئے کہ یہ بدعت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ اور تابعین سے ثابت نہیں۔ اسلام میں یوم پیدائش منانے کا کوئی تصور نہیں اگر ایسا کوئی تصور ہوتا تو سرکارِ دو عالم کی یوم پیدائش سے زیادہ کوئی اور دن اس بات کا مستحق نہیں تھا کہ اس کو باقاعدہ طور پر منایا جائے اور اس کو عید قرار دیا جائے۔


 *☀️معاصی ظاہرہ وباطنہ:* 

مولانا بدرعالم میرٹھی رحمة اللہ علیہ رقم طراز ہیں: مروّجہ میلاد حرام ہے؛ اِس لئے کہ یہ میلاد معاصی ظاہرہ وباطنہ پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں محرمات کا ارتکاب ہوتاہے موضوع روایات پڑھی جاتی ہیں، جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی ہے اور سب سے بڑی غلطی یہ کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب مانا جاتا ہے اور یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس محفل میلاد میں تشریف لاتے ہیں ان تمام امور کی وجہ سے اس محفل کا انعقاد حرام ہے۔رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عشق و محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ بلکہ عین ایمان ہے۔مدخل، ج:1، ص:361کے مطابق محافل میلاد میں لوگوں کا یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ یہ بڑی عبادت ہے حالانکہ یہ بدعت ہے اور اس میں محرمات کا ارتکاب ہوتا ہے اور دیگر لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ اگرمیلاد منائی جائے اور اس میں محرمات کا ارتکاب نہ ہو اور وہ تمام مفاسد نہ ہوں جو اس کے منانے میں ہوتے ہیں، تب بھی میلاد منانا بدعت ہے؛ کیوں کہ یہ دین میں زیادتی ہے اوراسلاف کا عمل نہیں ہے۔ اگر یہ کارِ خیر اور کارِ ثواب ہوتا تو سب سے پہلے سلف صالحین مناتے؛ لیکن ان کا میلاد نہ منانا اس کا ثبوت ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے۔مسلمانوں نے اس شریعت مطہرہ پرکاربند ہونے کی بجائے ایسے رسوم وقیود اپنالئے جو ہندؤوں اور غیرمسلم اقوام سے درآمد شدہ ہیں جومسلمانوں میں غیرمسلموں کیساتھ میل جول اوراسلامی تعلیم کے فقدان کے سبب پیدا ہوگئے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ عام سادہ لوح مسلمان میلاد کی باطل رسوم کو اسلام کا نام دے رہے ہیں اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ یہ دین ہے۔!!شیخ الاسلام ابن تیمیہ حرّانی دمشقی رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب ’اقتضا الصراط المستقیم‘میں تحریر فرماتے ہیں: نصاری میلاد عیسی علیہ الصلاة والسلام مناتے تھے، جب مسلمانوں کی اس طرف نظر ہوئی تو دیکھا دیکھی مسلمانوں نے یہ رسم اختیار کی؛ حالانکہ سلف صالحین سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اگر یہ جائز ہوتی اوراس کے منانے میں خیر ہوتی، تو پہلے کے لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبت رکھتے تھے اوراچھے کام کرنے کے زیادہ حریص تھے؛ وہ مناتے؛ لیکن سلف صالحین کا میلاد نہ منانا یہ اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ میلاد مروّجہ طریقے پر منانا درست نہیں ہے۔‘حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ذکر ولادتِ نبوی شریف صلی اللہ علیہ وسلم مثل دیگر اذکارِ خیر کے ثواب اور افضل ہے اگر بدعات وقبائح سے خالی ہو۔ اس سے بہتر کیا ہے کما قال الشاعر:

وذکرک للمشتاق خیر شراب  وکل شراب دونہ کسراب

البتہ جیسا ہمارے زمانے میں قیودات اورشنائع کیساتھ مروّج ہے اس طرح بے شک بدعت ہے۔کسی کو شک ہو تو وہ امداد الفتاویٰ،ج:5،ص:249سے رجوع کرلے۔اس مروّجہ میلاد کا اسلام میں کہیں ثبوت نہیں ہے؛ بلکہ یہ مروّجہ میلاد ساتویں صدی ہجری کی پیداوار ہے۔ پوری چھ صدی تک اِس بدعت کا مسلمانوں میں کہیں رواج نہ تھا؛ نہ کسی صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے، نہ تابعی رحمة اللہ علیہ نے، نہ تبع تابعین رحمة اللہ علیہ نے عید میلاد نبیﷺ‎ منائی، نہ کسی محدثؒ نے، نہ مفسر نے، نہ فقیہ نے؛ بلکہ سب سے پہلے میلاد منانے والی شخصیت موصل کے علاقے اربل کا ظالم، ستم شعار اور فضول خرچ بادشاہ ملک مظفرالدین ہے۔ 604ھ میں سب سے پہلے اس کے حکم سے محفل میلاد منائی گئی۔حوالہ کیلئے دول الاسلام، ج:2، ص:104سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔


 *🌼میلاد منانا کیسا ہے؟* 

القول المعتمد کے مطابق علامہ نصیرالدین الاودی الشافعی علیہ الرحمہ سے کسی نے سوال کیا کہ میلاد منانا کیسا ہے؟ تو انھوں نے جواب میں فرمایا: محفل میلاد نہ منائی جائے؛ کیوں کہ سلف صالحین نے اختیار نہیں کیا ہم اسے کیسے اختیار کرلیں۔دفتر اوّل مکتوب،ص:173کے مطابق مجدد الف ثانی رحمة اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں کہ بالفرض اگر آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں زندہ ہوتے اور یہ مجلس منعقد ہوتی تو آیا وہ اس پر راضی ہوتے اوراس اجتماع کو پسند فرماتے تو اس سلسلہ میں بندے کایقین یہ ہے کہ وہ ہرگز اسے قبول نہ فرماتے۔ دول الاسلام، ج:2،ص:103 پرعلامہ ذہبی رحمة اللہ علیہ یوں رقم طراز ہیں کہ شاہ میلاد کی فضول خرچی اور اسراف کی حالت یہ تھی کہ وہ ہر سال میلادالنبیﷺ‎ پر تقریباً تین لاکھ روپے خرچ کیا کرتا تھا۔فیض الباری، ج:2، ص:319 میں علامہ انور شاہ کشمیری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ’ یہ شخص بادشاہ مظفر الدین ہر سال میلاد پر لاکھوں روپے خرچ کرتا تھا اس طرح اس نے رعایاکے دلوں کو اپنی طرف مائل کرنا شروع کیا اوراس کیلئے ملک وقوم کی رقم کو محفل میلاد پر خرچ کرنا شروع کیا اوراس بہانے اپنی بادشاہت مضبوط کرتا رہا اور ملک وقوم کی رقم بے سود صرف کرتا رہا۔فتاوی رشیدیہ،ص:409پرقطب ارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ محفل (میلاد) چونکہ زمانہ فخر دوعالم حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں اور زمانہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور زمانہ تابعین وتبع تابعین اور زمانہ مجتہدین میں نہیں ہوئی، اِس محفل کا موجد چھ سو سال بعد کا ایک بادشاہ ہے جس کو اکثر اہل تاریخ فاسق لکھتے ہیں؛ لہذا یہ مجلس بدعت اور گمراہی ہے۔ عدم جواز کے واسطے یہ دلیل کافی ہے کہ قرونِ خیر میں اس کو کسی نے نہیں کیا۔چودہ سو برس سے زیادہ زمانہ گذرا کہ رب العالمین نے ظلمت کدہ عالم کو نور بخشنے والا وہ پیغمبر بھیجا جس کے ہاتھ میں سیادت رسل کا علم اور سرپرخاتمیت انبیاءکا تاج تھا۔ اللہ جل جلالہ نے اپنے پیغمبر کو ایسی شریعت کاملہ عطا فرمائی کہ اس کے بعد قیامت تک نوع انسانی کیلئے کسی مذہبی قانون اور نئی شریعت کی ضرورت درپیش نہ ہوگی۔


 *🌻ناجائز اور بدعت :* 

حضرت مفتی محمد شفیع رحمة اللہ علیہ’امداد المفتیین‘کے صفحہ79پرفرماتے ہیں کہ موجودہ مروجہ میلاد ہمارے نزدیک ناجائز اور بدعت ہے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب دام ظلہم نے ربیع الاول کو اسلامی تاریخ کا ممتاز ترین مہینہ قرار دیا ہے کیونکہ انسانیت اس مقدس مہینہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے سرفراز ہوئی۔ مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کو دنیا کے ہر برگزیدہ انسان کی ولادت سے افضل ترین بھی تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ‎ کی ولادت کے یوم کو ایک جشن کے طور پر منانے کے عمل سے شدت کیساتھ اختلاف کیا ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین کے دور سے ایسی کوئی مثال پیش نہیں کی جا سکتی کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت کو ایک مذہبی تقریب کے طور پر منایا جائے۔حضرت تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے دلیل بھی پیش کی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ‎ کی سیرت کے موضوع پر سارا سال تقاریب کا انعقاد ایک اچھا عمل ہے لیکن ربیع الاول کو اور خصوصاً 12 ربیع الاول کو ایک خوشی کے دن کے طور پر منانا یا جلسوں اور جلوسوں کے اہتمام کی کوئی شہادت شریعت اسلام میں موجود نہیں۔امت کو کون سمجھائے کہ خدارا ! خواب غفلت سے بیدار ہوجائیے اور ظاہری دل آویزیوں پر نہ جائیے، خرافات کی ظاہری چمک دمک دیکھ کر دھوکے میں نہ آئیے۔ بد بختانہ عقائد سے اپنا دامن چھڑائیے اور اللہ تعالی کے احکام پر عمل پیرا ہونے کا عہد کیجئے، پھر آپ یہ کہہ سکیں گے کہ ہم ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں اور فلاح وکامیابی ہمارا مقدر ہے۔

 *✍کتبہ:*

محمدنظیم معاویہ عفی عنہ

 *ماخذ:*

دروس سیرتِ طیبہ

*🌻عید میلاد رسول اکرم ﷺ کے دور میں:* 

قران مجید کی کسی آیت سے صراحتا و قنایتا کوئ دلیل نہییں ملتی جس سے کسی کی سالگره یا میلاد منانے کی دلیل لی جا سکے،اور نہ ہی کسی صحیح حدیث سے ثابت ہوتا ہے

آپﷺ کی تین صاحبزادیاں

حضرت زینب ، حضرت ام کلثوم، حضرت رقیہ رضی اللہ عنہما کی وفات آپکی زندگی میں ہوئی لیکن ان میں سے کسی کا سالگرہ آپﷺ نے نہیں منایا جبکہ نبی ہونے کے بعد 23 سال آپﷺ زندہ رہے لیکن اس عرصے میں نہ آپﷺ نے کسی صحابہ کو اپنی تا ریخ ولادت پر سالگرہ منانے کا حکم دیا اورنہ ہی اصحاب کرام نے اس عرصہ میں اپکی تاریخ ولادت پر اپنے طرف سے میلاد منائے۔

 *⏭️میلاد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں:* 

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد 5 اصحاب نے خلافت و حکومت چلائ مگر ان پانچوں میں سے نہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے زمانے میں کبہی عید میلاد منائ گئ اور نہ ہی عمر رضی اللہ عنہ اور نہ عثمان رضی اللہ عنہ اور نہ علی رضی اللہ عنہ اور نہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے۔


 *⏭️میلاد تابعین یا تبع تابععین کے دور میں:* 

صحابہ کرام کے بعد سب سے افضل اور قابل اعتماد لوگ تابعین اور انکے بعد تبع تابعین ہیں مگر تاریخ شاہد ہے کہ ان افراد میں سے کسی فرد نے بھی آپﷺ کی تاریخ پیدائش سالگرہ یا عرس نہیں منایا۔

 *⏭️میلاد ائمہ ومحدثین اورفقہائے عظام کے دور میں:* 

آئمہ ومحدثین اور فقہائے عظام مثلا ابو حنیفہ رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ امام مالک رحمہ اللہ امام احمد رحمہ اللہ سفیان عناویہ رحمہ اللہ امام اوزاعی رحمہ اللہ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ امام داؤد ظاہری رحمہ اللہ امام بخاری رحمہ اللہ امام مسلم رحمہ اللہ اور تمام علماءحدیث وفقہ میں سے کسی نے میلاد نہیں منائ اور نہ ہی انکے زمانے میں منائ گئ اور نہ ان میں سے کسی نے اجازت دی اسلئے کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت منقول ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا " من احدث فی امرنا هذا ما لیس منه فہو رد" رواہ البخاری

اور اسلئےکہ قرآن اور حدیث میں میلاد یا عرس منانے کا کوئ ثبوت نہیں ملتا لہذا یہ قران و حدیث کی نگاہ میں ایک مذموم و من گهڑت بدعات کے سوا کچهہ نہیں۔

 *⏭️جشن عید میلاد کا موجد:* 

جشن عید میلاد النبیﷺ‎ کی ابتداء ابوسعید کوکبوری بن ابی الحسن علی بن محمد الملکب الملک المظم مظفر الدین اربل (موصل) متوفی 18 رمضان 630هہ نے کی یہ بادشاہ ان محفلوں میں بے دریا پیسہ خرچ کرتا اور الات لهو لعب کے ساتھ راگ ورنگ کی محفلیں منعقد کرتا تها

مولانا رشید احمد گنگوہیؒ لکهتے ہیں اہل تاریخ نے صراحت کی ہے کہ یہ بادشاہ بهانڈؤں گانے والوں کو جمع کرتا گانے آلات سے گانا سنتا اور خود ناچتا۔

حوالہ فتوی رشیدیه صفحہ 123

یہ تو تها اسکا موجد جهاں تک اسکے جواز کا فتوی دینے والے شخص کا نام ہے۔

ابوالخطاب عمر بن الحسن المعروف بابن دحیا کلبی متوفی 633ھ حافظ حجر اپنی کتاب لسان المیزان جلد 2 صفحہ 295 میں لکهتے ہیں کہ میں نے تمام لوگوں کو دحیا کلبی کے جهوٹ اور ضعیف ہونے پر متفق پایا ہے۔

امام احمد بصری لکهتے هیں چاروں مذاہب کے علماء عید میلاد منانے اور اس میں شامل ہو نے کی برائی پر اتفاق کر لیا ہے

(حوالہ تاریخ میلاد صفحہ 115)

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی لکهتے کسی پیغمبر کی وفات یا تولد کے دن کو عید کی طرح منانا جائز نہیں ہے

(حوالہ تحفہ اثنا عشر یه)

Comments