Posts

 *🌻آفــتاب رســــول ﷺ‎ کــا ســفرِ آخــــرت:*  12 ربیع الاول کی تاریخ مشہور قول کے مطابق سرور کائنات فخر موجودات سید الاولین والآخرین خاتم النبین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی ﷺ کی پیدائش کی بھی تاریخ ہے گو کہ اس میں اختلاف بھی ہے۔ اور تمام مورخین اسلام اس پر بھی متفق ہیں کہ یہی تاریخ آپ کی سفر آخرت کی بھی ہے۔ بلاشبہ پوری کائنات کے لیے یہ تاریخ سب سے بڑی خوشی کی بھی ہے کہ یہی وہ تاریخ ہے کہ جس میں اللہ تبارک و تعالی نے اس عظیم ہستی کی زیارت سے اس عالم آب گل میں بسنے والی مخلوق کو مشرف فرمایا۔ اور یہی تاریخ اداسی اور غمی کی بھی ہے کہ اسی روز کائنات کی محبوب ترین ہستی جو کہ امت کی آنکھوں کا نور دل کا سرور ذہنوں کا سکون تھے ظاہری نظروں سے اوجھل ہو گئے تھے۔صحابہ کرامؓ فرماتے ہیں کہ اس روز باوجود اس کے کہ سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا مگر فراق پیغمبر اور جدائی رسول میں آنکھوں میں جو غم پھیلا ہوا تھا،اس کی وجہ سے مدینہ کی گلیوں میں اندھیری رات نظر آ رہی تھی۔ہر آنکھ اشک بار تھی۔ ہر دل ہجر کے غم میں خون کے آنسو بہا رہا تھا۔ حضور اکرم ﷺ کا سفر آخرت جب قریب آ چکا تھا تو بہت سی علامتیں...
*🌻بـــــارہ ربـــــیع الاول  حقــیـــــقت و شـــرعی حــیـثـیت:*  اسے دعوت سے روگردانی کے علاوہ کیا کہا جاسکتا ہے کہ مسلم معاشرہ میں بدعات و خرافات کارواج ہے، باطل نظریات اور غلط عقائد وافکار کی حکمرانی ہے، اہل باطل ان بدعتوں پر دین کا لیبل چسپاں کرکے عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں اور عوام اس پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں، رفتہ رفتہ وہ بدعتیں پھیل جاتی ہیں اور معاشرہ میں اس کی جڑیں مضبوط ہوجاتی ہیں۔ ان بدعتوں میں سرفہرست *"عیدمیلاد النبی"* ہے، جسے معاشرہ کے اکثر افراد دین تصور کرتے ہیں اور عبادت سمجھ کر منائی جاتی ہے، جلوس نکالے جاتے ہیں، جلسوں کا اہتمام کیاجاتا ہے، محفل میلاد منعقد کی جاتی ہے۔حالانکہ یہ سب محض بدعات ہیں، دین سے ان کا کوئی تعلیق نہیں ہے لیکن اس کا کیا کیجئے کہ برصغیر میں12 ربیع الاول باقاعدہ ایک جشن اور ایک تہوار کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ ربیع الاول کا مہینہ آتا ہے تو ملک بھر میں سیرت النبیﷺ‎ اور میلاد النبیﷺ‎ کا ایک غیر متناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک تذکرہ اتنی بڑی سعادت ہے کہ اس کے برابر کوئی اور سعادت نہیں ہوسکتی۔ لی...
 *🌻مــــــــاہ ربیـــــع الاول اور ہـــماری ذمـہ داریـاں:* ربیع الاول کے بابرکت مہینہ میں سرور کونین حضرت محمدﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی، اور مشیت الہی کی بناء پر آپﷺ اس دنیا سے پردہ بھی اسی ماہ میں فرماگیے۔ یہ کوئی امر اتفاقی نہیں تھا بلکہ یہ مسلمانوں کا اللہ رب العزت کی جانب سے ایک امتحان تھا، اور اس امتحان کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب کہ رسولﷺ کی ولادت باسعادت اور آپﷺ کی رحلت کا دن ایک ہی ہو، ربیع الاول کا مہینہ آتا ہے تو ملک بھر میں سیرت النبی ﷺ اور میلاد النبی ﷺ کا ایک غیر متناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک تذکرہ اتنی بڑی سعادت ہے کہ اس سے بڑی کوئی اور سعادت ایک مسلمان کیلئے ہو ہی نہیں سکتی- *☀️مــــــــاہ ربیـــع الاول میــــں خصــــوصیـــــت ســــــــے مجــــــــالـــس منعقــــــــد کــــــــرنا:* یہ تاریخ یقینا بابرکت اور حضور اکرمﷺ کا تذکرہ خیر اس میں مزید برکت کا باعث ہے لیکن چونکہ اس کی تخصیص اور اس میں اس ذکر کا التزام کہیں سے ثابت نہیں ہے اس لیے یہ عمل بدعت اور قابل ترک ہےـ *🌼حضـــور اکـــــرم ﷺ کـــی ولادت بـــاسعــ...
 *:  :^📖فـــضائلِ  قـــرآن کــــریـم📖^:  :*  *📿سوۃ یسین پڑھنے کی فضیلت:*  حضرت عطاء بن ابی رباح (تابعی) کہتے ہیں کہ مجھ تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا۔ جو شخص دن کے ابتدائی حصہ میں سورۃ یسین پڑھتا ہے تو اس کی (دینی و دنیوی) حاجتیں پوری کی جاتی ہیں۔ (دارمی نے اس روایت کو بطریق ارسال نقل کیا ہے)۔  *🌻  قریب المرگ کے سامنے یس کا پڑھنا*  حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو شخص اللہ رب العزت کی رضا و خوشنودی کی طلب میں سورۃ یسین پڑھتا ہے تو اس کے وہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں جو اس نے پہلے کئے ہیں لہذا اس سورۃ کو اپنے مردوں کے سامنے پڑھو۔ (بیہقی)  *☀️وضاحت:*   گناہوں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں کہ وہ اس سورۃ کی برکت سے بخش دئیے جاتے ہیں اسی طرح کبیرہ گناہ بھی بخشے جاتے ہیں مگر اللہ تعالی کا فضل و کرم اور اس کی بے پایاں رحمت شامل حال ہو۔  مردوں سے مراد قریب المرگ ہیں، مطلب یہ ہے کہ جو شخص قریب المرگ ہو اس کے سامنے سورہ یٰسین پڑھنی چاہئے تاکہ و...
 🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 *ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*  ━━━━❰・ *سلسلہ درسِ حدیث*   ・❱━━━━━                       *❖حدیث نمبر ٢❖*   *✍مرتب:*                    *محمدنظیم معاویہ عفی عنہ* عن أنسؓ قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن من أشراط الساعة أن يرفع العلم ويكثر الجهل ويكثر الزنا ويكثر شرب الخمر ويقل الرجال وتكثر النساء حتى يكون لخمسين امرأة القيم الواحد و في رواية يقل العلم ويظهر الجهل۔  متفق عليه "حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ " بلاشبہ قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا (یعنی حقیقی عالم اس دنیا سے اٹھ جائیں گے یا یہ کہ علماء کی قدر و منزلت اٹھ جائے گی ) جہالت کی زیادتی ہوجائے گی (یعنی ہر طرف جاہل وناداں ہی نظر آنے لگیں گے جو اگرچہ علم ودانش کا دعوی کریں گے مگر حقیقت میں...
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ  امید ہے گروپ کے تمام احباب ان شاء اللہ خیر و عافیت سے ہوں گے کچھ دنوں سے واٹس ایپ وغیرہ پر چمڑے کی جیکٹ،جوتوں اور موزوؤں کے متعلق مختلف سوالات موصول ہوئے ان تمام احباب کو مناسب جوابات بحوالہ پرسنل میں بھیج دیے گئے ہیں اب مناسب سمجھا کہ اس اہم مسئلہ پر تفصیلاََ گروپ میں بھی ایک تحریر لکھ کر ان تمام مسائل کو کھل کر بیان کیا جائے۔  دور حاضر میں دین کی محنت کی وجہ سے رفتہ رفتہ کھانے پینے ، لگانے ، پہننے اور استعمال کی اکثر مصنوعات میں حرام کی آمیزش کا انکشاف ہو رہا ہے ۔کھانے پینے کی اشیا کے بعد اب خنزیر کی کھال سے تیار شدہ جوتوں کی نشانیاں بھی منظر عام پر آرہی ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ برصغیر ہند،پاک کے مسلمانوں کیساتھ گذشتہ برسوں سے یہ کھیل جاری ہے ۔امت کی فکری ، لاپروائی اور عدمِ دلچسپی سے بھر پور انداز میں فائدہ اٹھا یا جارہا ہے ،فوڈ انڈسٹری کا حال تو اس دورِ جدید میں کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ کن کن طریقوں سے مسلمانوں کو حرام کھلایا جارہا ہے ، امت کی روحانی طاقت کو برباد کرنے کیلئے کون سا ہتھکنڈا ہے جسے نہ اپنایا گیا ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسلامی ...